زما ژوند او جدو جهد / لیکوال عبدالغفار خان باچا خان pdf book online book

زما ژوند او جدو جهد / لیکوال عبدالغفار خان باچا خان

زما ژوند او جدو جهد / لیکوال عبدالغفار خان باچا خان  
زما ژوند او جدو جهد / لیکوال عبدالغفار خان باچا خان

زما ژوند او جدوجهد د خان عبدالغفار خان ديو ليکلي اثر دي . په کتاب کي ليکوال خپل د ټول ژوند مبارزي ، سياسي او د عدم . 
تشددفلسفه
 او نوري ټولي هلي ځلي پکي بيان کړي دي  

کيا باچا خان واقعي غدار تهے ؟

فلسفہ عدم تشدد کے خالق خان عبد الغفار خان باچا خان رحمت اللہ علیہ (6 فروری 1890- 20 جنوری 1988) ایک عظیم تعلیمی مصلح سے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے تک کاسفر ! باچا خان پاکستان کے نہیں تقسیم ہند کے مخالف تھے‘ اور باچاخان نے جہالت کے خلاف مجاہدہ کیا، انھوں نے کبھی کوئی بغاوت نہیں کی تھی ! 
1948ء 
پاکستان کی اسمبلی میں حلف لیا اور پاکستانی شناخت کو مقدم جانا۔ پاکستانی سفارتکار ایس فدا یونس اپنی کتاب ’’تھانے سے سفارت تک‘‘ میں لکھتے ہیں ’’1969ء میں وہ کابل میں تعینات تھے اور باچا خان بھی افغانستان میں تھے، باچاخان کو گاندھی جی کی برسی میں شرکت کیلئے بھارت سے دعوت نامہ ملا، اُنکے پاکستانی پاسپورٹ کی میعاد ختم ہو چکی تھی، افغان حکومت نے افغان پاسپورٹ دینے کی پیشکش کی، کابل میں بھارتی سفیر نے کہا کہ باچاخان کو کسی پاسپورٹ، ویزے کی ضرورت نہیں، باچا خان نے کہا کہ وہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے پاکستان ہی کے پاسپورٹ پر سفر کریں گے۔ بحیثیت قونصل آفیسر میں نے باچا خان کی درخواست مع خط اپنی وزارتِ خارجہ کو ارسال کی اور منظوری آنے پر میں نے باچا خان کو نیا پاسپورٹ جاری کر دیا‘‘۔ ایسی اَن گنت مثالیں ہیں۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ایسے بےلوث رہنمائوں کی ہم نے وہ قدر نہ کی جسکے وہ مستحق تھے۔ غالبؔ نے کہا تھا۔
وہ لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
ڈھونڈا تھا جن کو آسماں نے خاک چھان کے
باچا خان بابا نے 108 سال قبل قوم کو اندھیروں کا راہی بننے سے روکنے کی خاطر " آزاد مدرسوں اسکولوں" کے قیام کا بیڑا اٹھایا اور علمائے حق کے قافلے میں مولوی عبد العزیز کے ہمراہ 1920ء میں چار سدہ اپنے آبائی گاؤں اُتمانزئی میں پہلے آزاد مدرسہ اسکول کی بنیاد رکھی۔ ان سکولوں میں پڑھایا جانے والا نصاب امن، برداشت اور ہم آہنگی کے فروغ کے پیش نظر ترتیب دیا گیا ہے۔ زیر تعلیم بچوں سے فیس نہیں لی جاتی بلکہ کتابیں اور یونیفارم مفت فراہم کی جاتی تھیں۔ پشتو، اردو اور انگریزی سمیت سائنسی علوم کے مضامین پہلی جماعت سے پڑھائی جاتی تھی۔
باچا خان بابا نے 1920 ء میں اپنے آبائی گاؤں سے آزاد مدرسہ سکول کے نام سے پښتون علاقوں میں سکولوں کے قیام کا آغاز کیا تھا۔ کچھ ہی عرصے میں انہیں پورے صوبہ خیبر پختوخوا میں پھیلا دیا گیا اور ان سکولوں کی تعداد 137 تک پہنچ گئی تھی جن کی تعداد اُس وقت کے سرکاری سکولوں سے زیادہ تھی۔ باچا خان کی روشن خیالی کی راہ میں انگریز اور اس کے حواری دیوار کھڑی نہ کرتے تو آج یہ خطہ علم کا مرکز ہوتا۔
ممتاز کلاسیکل شاعر و فلسفی غنی خان بابا اِسی آزاد مدرسے اسکول سے فارغ التحصیل تھے۔ فنون لطیفہ کی مزید تربیت برطانیہ سے حاصل کی۔ والد کی ہدایت پر امریکا میں اُنھوں نے شوگر ٹیکنالوجی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے باچا خان نے بھیجوایا لیکن جب انگریز حکومت نے1931ء میں باچا خان کو گرفتار کیا تو ان کی ساری جائیداد بنجر ہوگئی اور ان حالات کی وجہ سے اُنھیں تعلیم ادُھوری چھوڑ کرواپس آنا پڑا۔ جبکہ خان عبدالولی خان حجروں اور مساجد کے اِجتماعات میں خُوش الحانی سے قرات کرتے تھے ، جبکہ تیسرے صاحبزادے اور سابق سیکرٹری تعلیم عبدالعلی خان عرف لالی کی تعلیمی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں، انھوں نے آکسفورڈ سے ایم اے کیا۔ باچا خان کی تین نواسیاں ڈاکٹر ہیں ۔
قوم میں تعلیم کا شعور پیدا کرکے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کرنے والے صف اول کے سپاہی تھے ۔ خان عبدالغفار خان باچا خان بابا کو اپنی قوم سے بے فناء محبت تھی اور وہ یہی چاہتے تھے کہ اگر ترقی کرنی ہے تو تعلیم کو اپنا ہتھیار بنانا ہوگا۔ ڈاکٹر خان صاحب نے باچا خان کو اِنگلینڈ آنے کی دعوت دی کہ وہ یہاں آکر انجنئیرنگ کی تعلیم مکمل کرلیں لیکن باچا خان نے وطن و قوم کے خاطر ان کی پیشکش کو ٹھکرا دیا. وه پښتون قوم میں تعلیم کا شعور پیدا کرکے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم دینا چاہتے تھے۔ تاریخ میں مخالفیں نے ہمیشہ غدار کا نام دیا ہے ۔ باچا خان کی زندگی کا یہ غیر معمولی گوشہ ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے۔ 
باچا خان فرماتے ہیں کہ
" جب میں نے 1921ء میں پہلا آذاد سکول کھولا تو ہمارے پاس اُستادوں کی بہت کمی تھی. اسلیئے کبھی کبھی میں خود بھی بچوں کو پڑھاتا تھا. دوسری بات یہ کہ ہمارے پاس پیسوں کی کمی تھی اور اُستادوں کو اچھی تنخواہیں بھی نہیں دے سکتے تھے. لاهور میں خلافت کانفرنس کیلئے گیا تها۔ وہاں ضلع بنوں کے گاؤں میراخیل سے تعلق رکھنے والے امیر مختار خان سے ملاقات ہوئی. انھوں نے اپنے دو بیٹے ہمارے سکول میں پڑھانے کیلئے بخش دیئے . بڑے کا نام امیر ممتاز خان اورچھوٹے کا نام مقصود جان تھا. مقصود جان صاحب سکول ہذا کے پہلے ھیڈ ماسٹر بھی تھے۔
انگریزوں کے لیے تعلیم یافتہ پشتون ناقابل قبول تھا۔ انگريز کو ہمارے سکول پسند نہیں تھے. وه ہمارے استادوں کو ڈراتے دهمکاتے اس پہ کام نہ هوتا تو اچھی تنخواہ کا لالچ دیتے وہ ہمارے سکولوں میں اُستادوں کو نہیں چھوڑتے تھے. لوگوں میں تعلیم، بھائی چارہ، محبت اور قوم پرستی کاجذبہ پیدا کرنے کیلئے میں نے گاؤں گاؤں گھر گھر کے دورے شروع کئے. میرے ان دوروں سے انگریز خوفزدہ ہوگئے.
سرھملٹن گرانٹ ہمارے صوبے کا چیف کمشنر تھا انہوں نے میرے والد صاحب کوبلایا اور کہا کہ آپ کا بیٹا باچاخان کیا کر رہا ہے، سب لوگ خاموش بیهٹے ہیں وہ سکول کھولے جارہا ہے اور دورے کررہا ہے. انگریز حکومت سے آذدی کیلئے لوگوں کو اُکسا رہاہے. یہ ٹھیک کام نہیں ہے بیٹے کوسمجھاؤ اور منع کرو ان کاموں سے سعدالله جو چیف کمشنر کا سیکرٹری تھا انہوں نے میرے بابا کو کہا کہ چیف کمشنر آپکی بہت عزت کرتا ہے. آپ چیف کمشنرکیلئے اپنے بیٹے کو نہیں روک سکتے.
میرے والد صاحب آئے مجھے بٹھایا اور سمجھانے لگا کہ غفار خان بیٹے آپ بڑے اور معزز گھرانے کے ایک ذمہ دار فرد ہو زندگی کی تمام سہولیات آپ کو میسر ہیں، تو آپ اتنے طاقتور اور ظالم لوگوں سے دشمنی کیوں مول لے رہے ہو. سب لوگ خاموش ہیں آپ کیوں حکومت کو ناراض کر رہے ہو. میں نے کہا ٹھیک ہے بابا آپ چاہتے ہیں تو نہیں کرونگا. بہت لوگوں نے نماز چھوڑی ہے، میں بھی نماز نہیں پڑونگا پھر آپ یہ نہ کہے کہ نماز کیوں نہیں پڑهتے. بابا نے کہا نماز تو بیٹا فرض هے وہ کیسے چھوڑا جاسکتا ہے. میں نے کہا کہ نماز کی طرح علم بھی ہر مرد و عورت پر فرض ہے. تعلیم کے بعد انگریز شاہد نماز پر بھی پابندی لگائے تو نماز بھی چھوڑنی پڑے گی. اگلے دن میرا بابا کمشنر صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ آپ لوگوں کی خوشنودی کیلئے ہم اپنے دین کو نہیں چھوڑ سکتے.
گیارہ دسمبر 1921ء کو ہم سکول میں فٹبال گراونڈ بنانے کے کام میں لگے تھے کہ پولیس والے آئے اور مجھے پکڑ کر لے گئے. کل ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیا گیا. میرا جرم سننے کے بعد ڈپٹی کمشنر نے مجھے 3 سال قید بمشقت کی سزا سنائی اور جیل بهیج دیا." باچا خان مجموعی طور پر 35 سال پس زندان گذارے ، لیکن یہ ایک منفرد واقعہ ہے کہ آپ نے زندگی کی پہلی قید قوم کے بچوں کو زیور تعلیم کرنے کے"جُرم"میں کاٹی، 1924ء میں رہا ہوئے تو آپ کا والہانہ ِاِستقبال پختون روایات کے مطابق کیا گیا اور انواع و اقسام کے کھانے پیش خدمت کئے جانے کیلئے تقریبات میں مدُعو کرنے کی کوشش کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ" جو رقم آپ لوگ کھانے اور دیگر تقریبات پر خرچ کرنا چاہتے ہیں ، وہ گاؤں کے اسکول کے فنڈ میں جمع کرادیں۔ "
ﷲ بخش یوسف اپنی کتاب "صوبہ سرحد اور جدوجہد آزادی"میں ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ جب باچا خان کے والد بہرام خان جو علاقے کے بہت بڑے خان تھے ، انتقال ہوا تو دور دور سے مولوی صاحبان اس توقع کے ساتھ آئے کہ انہیں بہت"خیرات"ملے گی لیکن جب تدفین کے بعد"خیرات"کا موقع آیا تو مولوی صاحبان کو مخاطب کرتے ہوئے باچا خان گویا ہوئے کہ" احادیث میں صدقہ جاریہ کی تلقین کی گئی ہے لہذا میں والد صاحب کے ایصال ثواب کیلئے دو ہزار روپے گاؤں کے مدرسے میں بطورصدقہ جاریہ دیتا ہوں۔"ظاہر ہے کہ اس کے بعد اُن مولوی صاحبان کے غم و غصے کا کیا حال ہوا ہوگا۔ "
صوبہ سرحد اور موجودہ خیبر پختونخوا میں باچا خان کی خدائی خدمت گار تحریک پر ایک کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر مُوکُولیکا بینرجی کا کہنا تھا لوگوں کو اتنے بڑے پیمانے پر متحرک کرنے والی یہ ایک عظیم تحریک تھی جس کے پیچھے باچا خان کی شخصیت اور فکری توانائی کارفرما تھی۔
'باچاخان نے گاؤں گاؤں جاکر آزاد سکول کے نام سے بنیادی تعلیمی ادارے قائم کیے اور انگریز استعمار کے خلاف پختون عوام میں شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو گاؤں کی صفائی جیسے رفاہِ عامہ کے کام پر لگایا۔ اپنے علاقے کا خان ہونے کے باوجود انہوں نے ہاتھ میں جھاڑو پکڑی اور دوسروں کو بھی صفائی کی ترغیب دی۔'
ڈاکٹر بینرجی کا کہنا تھا کہ اپنی جنگجویانہ فطرت کے لیے مشہور پختون عوام کو انہوں نے جس طرح عدم تشدد اور پُرامن طریقے سے اپنے مقصد کے حصول کے لیے متحرک کیا اس کی مثال کم ملتی ہے۔
انگریزوں کو تعلیم یافتہ پشتون ناقابل قبول تھے اور انگریز یہ بھی جانتا تھا کہ اگر تلوار کے ماہر قلم کے شیدائی بن گئے تو پھر انھیں زیر کرنا ناممکن ہوجائے گا لہذا انگریز ڈپٹی کمشنر سر ہملٹن گرانٹ نے باچا خان کے قائم مدارس آزاد مدرسہ (اسکولوں) کے خلاف کاروائی کیلئے اپنے ایجنٹ دلاور خان کو اسسٹنٹ کمشنر بنا کر بھیجا جس نے تحریک خلافت کو کچلنے کے باعث شہرت پائی تھی لیکن یہاں ایسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا باچا خان کے ان 
آزاد مدرسہ (اسکولوں) نے بیرون صوبوں میں کافی شہرت پالی تھی لہذا ہندوستان کے کونے کونے سے اور خاص طور بلوچستان سے آپ کو مدعو کیا جانے لگا ۔جس پر انگریز سرکار نے چراغ پا ہو انھوں نے اسکولوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرڈالا اور باچا خان کے آزاد مدارس (اسکولوں) کے خلاف بھر پور کاروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے جگہ جگہ اساتذہ کو گرفتار کئے جانے لگا۔ اس سلسلے کا پہلا سکول چارسدہ اتمانزئی میں باچا خان نے ذاتی حیثیت سے قائم کیا تھا جس کو انگریز حکومت نے بند کرادیا۔ بعد میں دو مزید سکولز مردان کے علاقے گدر اور ضلع دیر میں کھولے گئے۔ گدر میں قائم سکول کو انگریز سرکار نے اور دیر کے سکول کو نواب آف دیر نے بند کرادیا۔ پابندیوں کے باوجود باچا خان اور ان کے مخلص دوستوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ باچاخان نے پختون قوم کو عدم تشدد کا فلسفہ دیا اور علمی و فکری نشوونما کے ساتھ ان کی سیاسی تربیت شروع کر دی۔انگریز سرکار کے ساتھ رجعت پسند طبقے نے بھی اتمانزئی کے پہلے آزاد مدرسے کی سخت مخالفت کی تھی۔ اس پراپیگنڈے میں اس وقت کے #مُلا #مولوي سب سے آگے آگے تھے۔ انھوں نے منبر کو جدید تعلیم سے متنفر کرنے کے لیے استعمال کیا۔ وہ کہا کرتے تھے 
’سبق دہ مدرسې وائي ، د پارہ يي دا پیسې وائي 
جنت کې به ئې زې نه وہ دوزخ کی بہ غوټی وائي 
ترجمه (ان مدرسوں میں پیسوں کے لیے پڑھنے والوں کی جنت میں کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ لوگ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ہوں گے)۔
اس سلسلے میں دیر کے علاقے میں قائم اخواندزادوں اور پراچوں ( اخوان ذاده و پراچه قوم ) کے تعاون سے قائم ایک بڑے آزاد مدرسے (اسکول) جس میں 450 طالب علم زیر تعلیم تھے ، ملاکنڈ ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ مسٹر کیب نے انگریز حکومت کے کہنے پر دیر کے نواب کو آزاد مدرسہ(اسکول) تباہ کرنے کا حکم دیا جس پر دیر کے نواب نے وہ آزاد مدرسہ (اسکول) نذر آتش کرڈالا، گو کہ بعد میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انگریز حکومت کے احکامات کی وجہ سے مجبور تھا۔انگریز نے مرکزی آزاد مدرسے (اسکول) کے خلاف کاروائی کے لئے پولیس کپتان حافظ زین العابدین ، جس کا تعلق امرتسر سے تھا ، باچا خان کو گرفتار کرنے کیلئے بھیجا ، لیکن انھیں گرفتار کرنے کے بجائے اُس کپتان نے بتایا کہ آپ کی تعلیمی تحریک سے متاثر ہوکر امرتسر میں بھی آزاد مدرسے (اسکول) قائم ہوگئے ہیں اور قربانی کی کھالوں کے ذریعے سے ان کے اخراجات پورے کئے جاتے ہیں ۔
گو کہ باچا خان کو گرفتار تو نہیں کیا لیکن آزاد مدرسہ (اسکول) بند کرادیا گیا ، یہی وہ زمانہ تھا کہ باچا خان تعلیمی جد وجہد میں انگریز حکومت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہتے اور #انگریز حکومت انھیں #غدار سمجھ کر گرفتار اور مدارس (اسکول) بند کرانے کی تگ ودو میں لگے رہتے ، اور بالآخر خوشحال خان خٹک بابا کی طرح انھوں نے بھی انگریزوں کے خلاف طبل جنگ بجا دیا اور مجبورا میدان سیاست میں آگئے۔
پښتنو بيدار شي ځانونه اوپيژنئ
تاسو له خو به ځان له پيغمبر نه راځي
آخر میں ایک بہت بڑے مغالطے کا ازالہ کرتا جاؤں گا کہ یہ بات سراسر غلط ہے کہ باچا خان #مہاتما #گاندھی کے فلسفۂ عدم تشدد سے متاثر تھے۔
" باچا خان کے فلسفۂ عدم تشدد کی بنیادیں چار تھیں: پہلے اسلام، خاص طور سے پیغمرِ اسلام کی مکّی زندگی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبرِ اسلام سے عدم تشدد سیکھا۔ پھر تصوف جس کا جنوبی ایشیا میر بڑا اثر تھا، تیسرے بدھ مت جو اسلام سے پہلے اس علاقے میں بہت بڑا مذہب تھا۔ اور چوتھے انہوں نے #پښتونولي یا پښتون ضابطۂ حیات میں ' ننواتې یا معافي کے اصول کو اپنایا۔ باچا خان نے اپنے لوگوں سے کہا کہ دشمن کا مقابلہ پُرامن طریقے سے کرنا بھی پښتونولي ہے۔' یہ اور بات ہے کہ باچا خان نے مہاتما گاندھی جی سمیت دوسرے راہنماؤں سے عدم تشدد کے حربے تو سیکھے مگر نظریہ# خالصتاً اِن کا اپنا تھا۔ 
اگر مجھ سے کئی کوئی بھول ہوئی ہے تو براہ کرم اصلاح کریں پڑھنے کا بہت بہت شکریہ ۔
تحریر و تحقیق : خیر محمد ترین

پروفيسر راز محمد راز د پښتو ادابي خدمات

https://youtu.be/NfDwuSsn_PE

پروفيسر راز محمد راز د پښتو ادابي خدمات



ارواښاد پروفيسر رازمحمد راز د ١٩٥١م کال د مارچ پر لومړۍ نېټه په پښين ښار کې د ملک محمددين ترين په کاله کې زوکړى وو، لومړنۍ او منځنۍ زدکړې يې په پښين کې کړې وې، څورلسم ټولګى يې په ١٩٧٣م کال له بلوچستان پوهنتونه پاس کړى وو او د تاريخ په مضمون کې يې په ١٩٧٥م کال د کراچۍ له پوهنتونه د ماسټرۍ ډګري اخيستې وه او بيا يې د بلوچستان په بېلابېلو کالجونو کې د تاريخ د استاد په توګه دنده تر سره کړې وه.تکړه شاعر او ليکوال پروفيسر رازمحمد راز چې په خپل دوه شپېته کلن عمر کې، شاوخوا لس منظوم او منثور آثار کښلي چي ډېر يې چاپ شوي دي.
پروفيسر رازمحمد راز په پښتو معاصر شعر کې خپل ځانګړى سبک درلود، په شعر او نثر کې يې فلسفي افکارو ته ځانګړې توجه کوله. د تېر کال په سپتمبر کې يې په پښين کې د فکرنوم ادبي فورم له خوا جوړي شوي سېمينار ته په وينا کې له شاعرانو او ليکوالو وغوښتل چي په ټولنه کې دي د فکري بدلون لپاره کار وکړي:

((په دونيا کې چي هر لوى قومي انقلاب راغلى دى تر هغه وړاندې يو فکري انقلاب راغلى دى، اوس دا ذهن جوړول، خلک دې ته تيارول او يو فکري انقلاب راوستل زموږ فرض جوړېږي، په اوسني صورتحال کې د پښتنو سرنوشت ټاکل د شاعرانو او اديبانو کار دى، تر څو چي زموږ ليکوالان او شاعران په نړيوال ادب ځانونه خبر نه کړي، هغوى په نړيواله سطحه له نورو ژبو سره خپله ژبه سياله نه شي ګرځولاى ))
تر اوسه يې (د صليب په دايرو کې، مات وزرې زاڼې ژاړي) په نوم د شعرونو ټولګه، د (اوشنيک ګاډيس) په نوم د نثري نظمونو کتاب، د (عاشو، لمر او باران اوري) او (کابل ړنګ دى مينې ژاړي) په نومونو دوه پښتو ناولونه او د (کاسميک سيکسوليزم) په نوم يې د جمالياتي او روحاني فلسفې په اړه د مقالو کتاب او (دى هولى سينرز The Holy Sinners) اردو ناول يې چاپ شوى دى او څو کتابونه يې ناچاپ پراته دي
خدایه څه شول هغه ښکلي ښکلي خلک
په ظاهر په باطن سپین سپیڅلي خلک
نن پښتني فرهنګي ټولنه، د لر اوبر افغان وطن روڼ اندې او تعلیم یافته کړۍ، د پښتو شعر، نثر او ادب لارویان او بهیرونه او ټوله پښتني خاوره د یوه بل ښکلي انسان او په ظاهر او باطن سپیڅلي مشر، ارواښاد پروفیسور راز محمد راز د ویر پر ټغر ناسته ده. راز زموږ د فکر، شعوراو علم د ډګرونو یو وتلی نوم او سپیڅلی انسان وو، راز زموږ د شعري بهیرونو یو مخکښ وو، راز زموږ د فلسفې پر باریکیو او عمقونو د محدودو آګاهو څیرو له ډلې نه وو، راز زموږ یو کامیاب او یاد ناولست وو، راز زموږ دقیق او باریک بینه څیړونکی وو او راز زموږ د ټولنې پر نبض پوه مشر وو.

نن مې د خپل مشر ارواښاد پروفیسر راز محمد راز د مرګ په اوریدوحواس دومره پریشانه دي چې هیح اندازه نه لري. ماته همدا اوس زما او راز صیب د کشر ورور، ګران عصمت الله زهیر ژړغونې څیره، زخمي او سوري زړګی او له غمه کړوپه ملا مخې مخې ته کیږي، نه پوهیږم چې د راز ویر وژاړم، د خپل کشر ورور زهیر زخمي زړګی او که د راز د کورنۍ او بچو نا امیده او د غم په اوښکو لمدې سترګې او که خپله بیوسي چې دومره وس هم راکې نه شته چې د مرګ پر تخته د خپل پراته مشر تندی ښکل کړم او یا له غمه خپل ملا ماتی ورور زهیر، سینې ته
راجوخت کړم!!!

پروفيسر راز له تېرو څو کلونو راهيسې د سرطان په ناروغۍ اخته وو چي په پرله پسې توګه په کراچۍ ښار کې تر درملنې لاندې وو، خو له تېر يوه کاله راهيسې له ګرځېدو لوېدلى او ډاکټرانو له خبرو هم منع کړى وو، خو د قلم مينه يې د مرګ تر بستره له زړه ونه وتله، د هغه کشر ورور ليکوال او شاعر عصمت الله زهير صيب د راته وويل:
((په دې وروستيو ورځو کې يې صحت ډېر خراب وو، څو ورځې مخکې د بې هوښۍ په حالت کې وو، چي پر هوښ راغى، ماته يې په لاس اشاره وکړه او راته ويې ويل چي زما د نوي ناول ټايټل څنګه سو، ما ورته وويل هغه بېخي تيار دى، ويل يې زما بېخي ډېر ارمان دى چي دا ناول ووينم))
(( محرم عصمت الله زهير صيب ويل چي د پروفيسر راز محمد راز صيب يو ناول يي چاپ خانې ته ورکړي وو.د کتاب تر لاس کولو د نيټې په ورځ کله چي زۀ د کوټه شهر ته ورسيدم نو په شهر کي سه بمي چاودنو له کبله بازار ټول بند وو .و چاپ خانه هم بند وا. نو مي و ګران مشر ورور پروفيسر راز محمد راز صيب سر ه اړيکي ونيوي، چي داسي قصه ده . نو د راته وويل چي هس قصه نه ده. کوم کار چي به پر کوم وخت کيږ ي ، هغه به پر هم هغه وخت کيزي . او ومته يي حوصيله راکړه )))
کوټې ښار شمال لوېديځ لور ته د تاريخي ښار پښين نوميالي فلسفي شاعر، ليکوال او ناول کښونکي. ارواښاد پروفيسر رازمحمد راز د يکشنبې په ماښام د دوشپېته کلنۍ په عمر له دې فاني نړۍ سترګې پټې کړې.

څښتن تعالی دې زموږ پر نازولي او ارماني راز ورحمیږي، الله ج دې یې مزل آسانه او منزل روښانه لري. له لویه خدایه ج ګران زهیر، د راز صیب کورنۍ ، د لر او بر پښتون وطن فرهنګیانو او د هغه ارواښاد دوستانو ته د دغه درانه غم د زغم وس او توان غواړم. د فیس بک له دوستانو هیله کوم چې د پښتنو ارمانجن راز له دعاګانو هیر نه کړي.
خلک وايي چي محشر دى احتساب دى
کامل خداى له مانده خلکو حساب غواړي

له طرفه
لیکوال

((خير محمد ترين)) 

عبد الصمد خان اڅکزی ژوند ، جدوجهد ، ادبي او سياسي خدمات

 خان عبد الصمد خان اڅکزی چې تر مرګ وروسته د خان شهید په نوم، ونومول شو د ۱۹۰۸ز کال د جولای په اوومه نېټه د اوسني بلوچستان په ګلستان سیمه کې زېږېدلی وو. خان عبدالصمد خان شهيد د نور محمد خان زوی د سلطان محمد خان لمسی د عنایت الله خان کړوسی او د بوستان کوسی دی.په خټه اڅکزی په اڅکزي كې حمیدزی دی. د خان شهيد پلار نور محمد خان او د دويم انګرېز_افغان جنګ په دوران کې په ١٨٨٠ کې د ميوند په تاريخي ميدان کې پيرنګي ته ماتې ورکولو کې له ايوب خان سره ملګري ول او بيا چې د انګرېز په کومک عبدالرحمن د افغانستان حکمران شو او ايوب خان پيرنګيانو د پنجاب په لاهور کې نظربند کړ، نو دى لومړى د کندهار ولايت په ريګ نومي سيمه کې له شمشوزي اڅکزيو سره ننواتى شو او بيا د ګندمک تپلې استعماري لوظنامې لاندې مستعمره شوي پښين کې د خپل نيکه عنايت الله خان مېنه عنايت الله خان کاريز کې آباد شو


د خان شهید زوکړه د جولايي په میاشت په کال ۱۹۰۷م كې د ګلستان په سمي عنایت الله کاریز كې وشوه، لا ماشوم وو چې د پلار سایه یې له سره لري شوه.خو مور بي بي د خان شهید روزنه د عصري زدكړو په څنګ كښې مروجه اسلامي علوم هم له بیلو بیلو استادانو لکه نورمحمدخان، ایوب شاه ،ملا اغامحمد او نورو څخه ولوستل، خان شهید عصري ذده کړې تر اتمه ټولګې پوري په کلي ګلستان کاریز كښې وکړې په ٣٥_١٩٢٤ کې يې اتم ټولګى پاس کړ او پرمخ يې سکول پرېښود، ځکه چې ګوزاره يې تنګه وه، نو يې د مېوې تجارت ته لاس واچاوه او ددې لپاره يې سندهـ او پنجاب ته تګ راتګ پيل شو. انګرېزي يې مخ کې لا زده کول پيل کړي وو، اوس يې ښه ډېره زده کړه. نور يې د وخت د عالمانو کتابونه ولوستل او وايي، چې دلته “ايله د لوستو او پوهنې په خوند پوهـ سوم” نو په نتيجه کې يې د ملايانو او نورو خلکو د اعتقاداتو پرخلاف د پوهې (عقل) او پوهنې (علم) پر بنياد باورونه جوړ شول. د قرآن شريف يې هم ډېره ژوره مطالعه وکړه او په دې حالاتو کې يې په پښتنو کې د پيرانو او پيريانو او د هر ډول توهم پرستۍ او ددې په نتيجه کې شوکې پرخلاف پراخو هلوځلو ته لاس واچاوه، وروسته يې د مټرک.اېف اې پښتو او فارسي امتحانونه يه غیر رسمي توګه په امتیازي نمبرو پاس کړل. له خپل اکا عبدالسلام سره يې تجارت هم کولی.
نوموړي نه یواځې د پښتون ولس د ویښولو او د خپلواکۍ په مبارزې کې خپل ټول ژوند تېر کړ، بلکې دا ژوند یې د همدې سیاسي او ملتپالې مبارزې له لارې له لاسه هم ورکړ. د پاکستان له جوړېدو سره او تر هغې مخکې د خپلې سیاسي نظریې او فکر پر اساس کالونه، کالونه په زندان کې تېر کړل. خان شهيد ان دځوانۍ په مستو شپواو ورځوکښې دپښتون ولس دا نساني او رواحقوقوڅخه ددفاع اوملاتړ په خاطرهرڅه پرځان ومنل اوهميشه یې پردې مسله ټينگارکاوه چې پښتانه بايدسره يواودخپلې خپلواکی لپاره ، په يوه اواز دخپل ولس دارمانوددفاع په سنگرکښي ودرېږياودمبارزې پدې لارکښي هرډول قربانۍ اوفدا کارۍ ته تياروي، خان شهيد دهند دنیمې وچی له ازادي غوښتونکي غورځنګ سره آشناو، هغه هندوستان ته دسفرپه وخت کي چي کله بمبۍ ته په لومړي ځل ولاړی د هند له مختلفو سياسي مشرانو دهغه جملې دهند دآزادی بخښونکي جنبش له رهبر مهتاماگاندي او نورومشرانو سره وليدل اوله هغوي سره ئې نږدې اړېکې پېژندګلوي پيدا کړدغه ليدني اوکتني که څه هم د ډيري لږمودې لپاره وې خودخان شهيد پرسياسي کړونې اونظريات ئې تر اغېزې لاندي راوستل . دبلې خوادهندوستان دخپلواکی دلاري مبارزينوسره دخان شهيدغوندي دپښتون غيرتي مشر ليده کاته اويوله بل څخه ددوي ملاتړ ددې لامل وگرځيد چي دهندپه لويه وچه کښې دخپلواکي نهضت راگړندی شي ، خان شهيد د همدې سفرونو په لړ کې له باچاخان سره هم و پېژندل او دواړه په يوه خونه کې څو ورځې يوځاي ژوند کاوه.
سياسي او علمي خدمات:
خان شهید عبدالصمد خان لاپه تانده ځواني كښې وو چې د خپل وطن او قام سیاسي، ټولينز او معاشي حالات چې د پرنګي سامراج قبضې له ناوړو ستونځو سره مخ کړی وو وپامول، خو د دې پر ځاى چې خپل قام او وطن د دې ناوړو حالاتو پر رحم او كرم پريږيدي د پرنګي سامراج په مقابل كښې د مبارزې پريكړه وكړله، كه څه هم تر دې لمخه په ټوله پښتونخوا كښې د پرنګي سامراج په مقابل كښې د اذادۍ مبارزه روانه وه خو دې مبارزې یوه منظمه او سياسي بڼه نه لرله، ځکه دې سترګور افغان ته د دې كمي اندازه وشوله چې تر څو پښتانه خپلي مبارزې ته منظمه او سیاسي بڼه ور نه کړي تر هغو دې نړيوال ښامار ته ماته ورکول نه يواځي ګران كار دى بلكې په نا ممكناتو كښې راځي، دا هغه پاميدل وو چې خان شهيد په سوهېلي پښتونخوا كښې د (انجمن وطن ) نومي سياسي تحريك بنسټ کښېښودلی، وروسته يې دې سیاسي تحریک ته د (ورورپښتون) نوم ور کړلى، د سیاسي مبارزې په نتیجه كښې خان شهید عبدالصمد خان په کال (۱۹۲۹)م كښې د (دويشتو) کلونو په عمر كښې د پرنګي واكدارانو لخوا په بند محكو م شولو، له دې وروسته خان شهيد عبدالصمد خان بيا تر نيمي هم زيات ژوند لومړى د پرنګي سامراج وروسته د پاكستا ن په بندي خانو كښې تير كړى خو هيڅ كړاو، ناورین او ظلم يې مخه نه ونيوله بلكې د ژوند تر اوسترۍ ساه يې د خپل قام او اولس چوپړه ته ملا تړلې وه.
خان شهید د سیاسي مبارزې تر څنګ، د پښتو ژبې او ژبپوهنې په ډګر کې هم د خپلې پوهې او مطالعې پر اساس ډېر کار کړی دی او د لیکدود یوه نوې بڼه یې هم ایجاد کړې وه د نوموړي د لیکدود پر اساس، د نوموړي خپل نوم (خان اودل سمد خان اڅکزی) لیکل کېږي خان شهید د خبریالۍ په ډګر کې هم ډېر کار کړی وو ، علمي او ادبي خدمات: شهيد عبدالصمد خان د سیاسي مبارزې په څنګ كښې د قلم له لارې هم ډېرادبي او علمي خدمتونه کړي دي، خان شهيد لا ډېرد کم عمر وو چې د مولانا محمد علی جوهر (همدرد) نومي اخبار كښې يې لیکنې کولې، د پښتو د رسم الخط په اړه يې ډېر ګټور او بنيادي كار كړى دى خان شهید د پښتو ليك لوست لپاره خپله املا ايجاد كړله، پښتانه هغه توري چې له عربي ، فاړسي يا نورو ژبو څخه پښتو ته راغلي دي په خپلو ږغونه كښې وايي مثلاً (ص) په (س)، (ع) په (ا)، (ف) په (پ)، (ق) په (ك) او نور، د خان شهيد د رسم الخط لويه ځانګړتیا دا وه چې كوم توري به په كوم ږغ كښې ويل كېدل په هغه ږغ (صوت) كښې به ليكل كيده، که چیري پښتانه په دې رسم الخط سلا شوي وايه نو امكان دا وو چې تر ډېره بريده به د پښتو د املا ستونځې هوارې وايي، له دې پرته دې ستر مبارز او علمي هستۍ د (صمدالغات) په نوم د پښتو قاموس ليكلى دی.د شیخ سعدي (ګلستان ) او د شبلي نعماني (سیرت النبي) لومړۍ ټوک يې ډېرپه عالمانه بڼه پښتو ته ژباړلي دي، د امام غزالي (کیمايې سعادت) او د مولانا عبدالکلام ازاد (ترجمان القران) يې هم د لوړ معيار ژباړلي دي.(زما ژوند او ژوندون) چې درې ټوکه دی یو بل علمي او ادبي شاهکار دی، په دې کتاب كښې خان شهید د خپل ژوند او اوږدې سیاسي مبارزې ټوله كيسه ډېر ه په عالمانه نثر لیکلې ده.
خان شهيد عبدالصمد خان چې ټول عمر يې د خپل قام او ژبې چوپړ ته ملا تړلې وه او د وخت او حالاتو هيڅ ناروا يې مخه نه شوله نيولى د پښتون دوښمن قوتونو لخوا په ۲ دسمبر كال (۱۹۷۳)م كښې د شپې په مهال په خپل كور كښې په شهادت ورسول شو، په هغه سبا د ګلستان په لويه هديره كښې خاورو ته وسپارل شو، د خان شهید د وژنې په اړه په پاکستان کې هیڅ مقدمه، او هیڅ پلټنې هم نه دي شوې او نه هم تر اوسه دا مالومه شوه چې نوموړی آخر چا وواژه ؟ الله دي ارواښاد خان شهيد په جنت الفردوس کې ځای ورکړي. مونږ بايد چې د پښتون قام په حېث له هر قسمه سياسي اختلافاتو څخه بالاتر سو او خپل ملي اتلان او قهرمانان نه کو هير ...
تحقيق او ليک
خير محمد ترين

swiming in jeal saifulmuluk chanllenge .


جھیل سیف الملوک ناران پاکستان میں 3224 میٹر/10578 فٹ کی بلندی پر وادی کاغان میں واقع ہے۔ قریبی قصبہ ناران سے بذریعہ جیپ یا پیدل اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ وادی ناران سے جھیل کا فاصلہ آٹھ کلو میٹر ہے جو کہ ہائیکنگ کے لئے تقریبا دو گھنٹے بنتا ہے. یہ ایک انتہائی خوبصورت جھیل ہے۔ دور سے جھیل پیالہ نما دکھائی دیتی ہے جس کا پانی موسم کیساتھ اپنے رنگ بدلتا ہے صاف موسم میں نیلا اور بادلوں میں سبز۔۔ سردیوں میں سفید برف ۔ کہتے ہیں کہ سردیوں کے موسم میں جھیل برف کا پیالہ دکھائی دیتی ہے۔ اردگرد بلند و بالا پہاڑ اور جھیل کے پانی پر پڑتا ان کا عکس ۔۔۔ ایک نئی دنیا سے روشناس کراتا ہے اور چند لمحوں کے لئے تو آنکھیں ان پریوں کی تلاش میں سرکرداں ہوجاتی ہیں جو مقامی داستانوں کے مطابق چاندنی راتوں میں جھیل پر اترتی ہیں.اس جھیل سے وابستہ شہزادہ سیف الملوک اور پری بدیع الجمال کی رومانوی داستان بہت مشہور ہے۔ داستان گو یہ داستانیں سنا کر سیاحوں سے پیسے بھی کماتے ہیں۔
جھیل تک کا راستہ تھوڑا مشکل ہے۔ راستے میں گلیشیئر بھی آئے۔ پہلے یہ سفر پیدل طے کیا جاتا تھا لیکن اب یہ سفر جیپوں کے ذریعے طے کیا جاتا ہے۔ یہاں پہنچ کر یہ احساس ہوا کہ واقعی کبھی یہاں پریاں اترتی ہوں گی لیکن اس کے ساتھ ایک تکلیف دہ بات کا ادراک بھی ہوا۔ یہاں آنے والے سیاحوں نے کوڑا ڈال کر اس خوبصورت جگہ کی خوبصورتی کو گہن لگا دیا ہے۔ دنیا بھر سے سیاح اسے دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ ملکہ پربت اور دوسرے پہاڑوں کا عکس اس میں پڑتا ہے۔ سال کے کچھ مہینے اس کی سطح برف سے جمی رہتی ہے۔ جھیل سیف الملوک سطح سمندر سے تقریبا 10500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ پیالہ نما جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کی لمبائی تقریبا 1420 فٹ اور چوڑائی 450فٹ کے قریب ہے۔ جھیل کی سحر انگیز خوبصورتی آپ کے لیے خوابوں کا ایک نیا جہان روشن کرتی ہے جھیل کا پانی اور اس سے نکلتی مہیب سی روشنی محبتوں کے دیے جلاتی محسوس ہوتی ہےاور دل چاہتا ہے یہ پرسکوں منظر ٹھہر جائے وادی ناران کی دلکشی پر یہ جھیل ایک ایسا سنہرا تاج ہے جو آپ کو واپس وہاں جانے پر اکساتا رہے گا۔ چند لمحوں بعد ہی واپسی، وجہ خون کو جمادینے والی سرد ہوائیں ۔۔۔ جوٹھٹھڑنے اور واپسی پر مجبور کردیتی ہیں۔ اگرجھیل سیف الملوک کوخوابوں کی جھیل کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔۔۔۔ 
See less

 بیف اسکالرشپ کا اپلیکیشن فارم
درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2020 ہے، شیئر کریں




Pashto Mast Attan in Shahi Bagh Kalam Sawat پښتو مست اتڼ شاهي باغ کالام ...


۱( اتڼ ) ,,,,,,,,,,,,,پښتون کلتور پاڼه . pukhtoon old culture
a..................................
اټڼ يو ډول دوديزه ګډا او د خوښۍ لوبه ده چې له ډېرې لرغونې زمانې راهيسې په افغانستان کې دود دی. او تاريخي لرغونتيا يې آريايي ټولنې ته رسېږي، چې د هغه مهال له مذهبي عنعنو څخه سرچينه اخلي. په افغانانو، په ځانګړې توګه پښتنو کې له ډېر پخوا څخه تر ننه اتڼ د رزم او بزم د يو غوره سمبول په توګه شته.
دغه ملي او ولسي ګډا معمولاً له ډهول او سورني سره ترسره کېږي او پکې د اجراکوونکي د وجود ټول غړي په ځانګړې توګه لاسونه، سر پښې، غاړه، اوږې، سينه او نور په مخصوص او منظم ډول حرکت کوي. د بدن د بېلابېلو غړيو دا حرکتونه، که له يوې خوا د ټول وجود او په ځانګړې توګه د دغو غړيو د قوت او پياوړتيا سبب ګرځي، نو له بلې خوا د يو ځانګړي جګړه ييز مهارت په توګه له دوښمن سره مقابلې پر وخت ورڅخه کار اخيستل کېږي. له تاريخي څېړنو نه داسې څرګندېږي چې ددغه هنر، ورزش او لوبې بنسټ په لومړيو کې ددې لپاره ايښودل شوی چې ځوانان د جګړې پر مهال د وسلې په ځانګړي توګه د تورې، کوتک او ټوپک چلول زده کړي او د دوي بدن چُست، چالاک او غښتلی وروزي چې د دوښمن مقابلې ته ښه چمتو وي. خو وروسته د وخت په تېرېدوورو ورو دا ملي ورزش د افغاني موسيقۍ او هنر يو پزړه پورې برخه شوه . په ځوانانو کې د شور ، جذبې او احساساتو د پيداکولو لپاره به ېې دا ورزش د موسيقي له آلو ، په ځانګړې توګه د ډهول او سورني له ساز او سُرود سره يوځای ترسره کاوه.
ددې لپاره ځانګړې سندرې ، غږونه ، سروکي او لنډۍ هم جوړې شوې ، په راوروسته زمانو کې برسېره پر نارینوؤ په ښځو کې هم ددغې ګډې ډله ايزې نڅا او هنر زده کړه رواج شوې او تر نننه دودونو او نورو خوښيؤ زیاتره محفلونه پرې تاؤده ساتل شوي دي . دغه لوبه د کندهار په سیمو کې د نارینؤو تر منځ د (چاپ) او د ښځو تر منځ د (اتڼ) په نوم يادېږي .
د وخت په تېرېدو سره ورو ورو دغه ورزش د ډله ايزې نڅا يا ګډا بڼه خپله کړې او نن سبا په همدې مفهوم ترسره کېږي. ورزشي احمیت ېې کم دی ، که څه هم په عامه توګه ورته اوس لدې اړخه خلک نه ګوري ، خو پر هنر برسېره اتڼ خپل ځانګړی ورزشي ارزښت او روغتيايي ګټې هم لري ، خو هېڅکله د روغتيايي ګټو له پاره پکار ندی اچول شوی .
اتڼ په زیاترو افغاني قومونو او قبیلو کې د بڼې او شکل په لږ او ډېر بدلون او توپير سره رواج لري ، خو په پښتنو کې ، په ځانګړې توګه د پکتيا ، غزني، زابل، په خلکو او په عام ډول په ټولو کوچيانو کې عمومیت لري . هېڅ واده ، عنعنوي مېله، ملي جشنونه ، او د خوښۍ نور مراسم بې اتڼه نه ترسره کېږي. اتڼ خپلې ځانګړې سندرې، سروکي يا غږونه لري، چې هغو ته د اتڼ نارې يا غږونه وايي او په مخصوص غږ او انداز د موسيقي له آلو سره د ځانګړو حرکتونو د اجرا کولو په وخت کې وييل کېږي.
د اتڼ کولو طريقه،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اتڼ معمولاً په شريکه او ډله ييزه توګه ترسره کېږي، داسې چې اتڼ کوونکي ګرد چاپېره په دايروي بڼه درېږي، د موسيقي د آلو، په ځانګړې توګه د ډهول په وهلو د شپېلۍ او سورني په غږولو سره يو ځای پيل کېږي. په پيل کې د اتڼ کوونکو شمېره کمه او حرکتونه ورو او په منظمه توګه ترسره کېږي. په پيل کې د اتڼ کوونکو شمېره کمه او حرکتونه ورو او په منظمه توګه ترسره کېږي. ورو ورو چټکتيا مومي او ځانګړې احساساتي بڼه خپلوي، د اتڼ کوونکو شمېره هم زياتېږي او د ننداره کوونکو له ډلې نه د ذوق خاوندان هم په اتڼ ورګډېږي. اتڼ چيان د موسيقي د آلو، پښو او لاسونو د منظم او غبرګوني غږ سره له خولې نه هم ځانګړي آوازونه باسي، چې د دوی د تودو احساساتو څرګندويي کوي. سندرغاړي له موسيقي سره د اتڼ ځانګړې سندرې هم وايي چې د اتڼ کوونکو جذبه او احساسات لوړوي.
په اتڼ کې مشربڼه ډېره ارزښتمنه نه ده، د چا چې ښه اتڼ زده وي هغه له نورو مخته کېږي، نور د ده د حرکاتو له مخې اتڼ سر ته رسوي. د هر يوه ځوان اتڼ ډېر په خوند زده وي، ځکه چې د ځوانانو تر مېنځ يو ډول سيالي پکې وي او هر يو غواړي چې له نورو څخه ښه اتڼ وکړي، نو کله مشر په کې معلوم نه وي، خو د يو او بل د درنښت لپاره په مينه سره يو مخې ته کوي او دوی يې مير هم بولي.
مير چې تر نورو په اتڼ کې مهارت لري نور اتڼچيان په هغه پسې روان او د حرکتونو پيروي يې کوي. اتڼ د اجرا کولو په بهير کې بېلابېلې بڼې خپلوي. کله کله داسې وشي چې نور ګردچاپېره ولاړ، يو يو په وار سره ورمنځته کېږي او په ځانګړې توګه د خپل هُنر ښودنه کوي. په دې ترتيب ټول په دغه ډول اتڼ کې برخه اخلي، او اتڼ ته ځانګړی خوند او رنګ وربخښي.
د اتڼ ډولونه،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اتڼ په سيمه ييز، قبيلوي او وګړنيز توپير ځانګړي ډولونه لري او يوې سيمې، قبيلې او يا ډلې ته منسوبيږي. لکه کندهاری اتڼ، پکتياوال اتڼ، غزنيجي اتڼ، طالبي اتڼ ناصري اتڼ  ، کاکړي اتڼ  او نور. خو د بڼې په لحاظ يې يو ډېر مهم ډول برګ اتڼ دی چې په هغه کې ښځې او نارينه ګډه برخه اخلي، داسې چې يوه ښځه او يو نارينه درېږي او په ګډه اتڼ کوي. دا ډول اتڼونه معمولاً په خوښيو کې د يوې کورنۍ د غړيو  او خپلوانو تر مېنځ ترسره کېږي.
اتڼ په عمومي توګه د ترسره کولو د بڼې له مخې په دوه ډوله دی:
راسته اتڼ
چپه اتڼ

American China Trade War

American China Trade War

 بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ یا تیسری جنگ عظیم ٹریڈ وار کی شکل میں شروع !!!


کیا کورونا وائرس کے بعد کرہ ارض ایک بار پھر دو بلاک میں تقسیم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے ؟ یا واقعی ایک نیوورلڈ آرڈر نافذالعمل ہوجائے گا۔ اب جو میدان جنگ تیسری جنگ عظیم کےلئے سجنے جارہا ہے وہ ابھرتے ہوئے معاشی قوت سوشلیسٹ چین اور جبکہ کمیونسٹ روس جبکہ مقابلے میں سپر پاور کپیٹلسٹ امریکہ بمعہ اتحادیوں کے درمیان ہوگا؟ کیا دنیا کے مختلف خطوں میں الگ الگ محاذوں پر جنگ کے آغاز ہونگے ۔ یہ آرٹیکل ایک ہفتے کی مشقت سے لکھا ہے آپ کے آراء کا منتظر ہوں !
امریکہ دنیا کا واحد سپر پاور ہے اور اس کو برقرار رکھنے کے لئے زمین پر جو بھی ملک کسی بھی صورت میں چاہیے عسکری قوت ہو ، وسعت پسندی کی قوت ، یا پھر معاشی قوت کے طور پر ابھر رہا ہو ، یا اپنا ہی کوئی نظام لانا چاہتے ہو۔ اس کی سر مختلف طریقوں سے کچل دیا جاتاہے، آج سے کئی عشرے قبل جب دنیا کمیونسٹ اور کیپٹلسٹ بلاک میں منقسم تھی اور انکی اپس کے سرد جنگ کیوجہ سےجنوبی ایشیاء کا پورا خطہ اور خصوصا پشتون وطن خصوصی طور پر بفر اسٹیٹس کا کردار ادا کررہا تھا۔جب کبھی یہ خفیہ اور پس پردہ جنگیں اپنے عروج پر تھیں تو پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں اور خطے کے سیاسی رحجانات بھی مذہبی اور مترقی گروپس میں بٹ چکے تھے ۔ باچا خان رح نے اس وقت بھی کیا خوب کہا تھا کہ " امریکہ اور روس دو بد مست سانڈ ہیں انکی لڑائی میں ہم مینڈک کی طرح کچل جاینگے " چونکہ اس وقت یہ جنگیں روس کے ساتھ تھیں ۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے بڑے کہا کرتے تھے کہ روسی ٹی وی ، ریڈیو اور فرج نہیں خریدنے چائیے چونکہ یہ پھٹ سکتے کیونکہ اس میں بارودی مواد ڈالتے ہیں ۔ اور طرح طرح کے داؤ و پیچ سے روس کو توڑ کر رکھ دیا، اب ایک بار وہی ویشئیس سرکل دہرایا جا رہا ہے لیکن اب جو میدان سجنے جارہا ہے وہ ابھرتے ہوئے معاشی قوت سوشلیسٹ چین اور سپر پاور کپیٹلسٹ امریکہ کے درمیان ہوگا۔ اور ایک بار پھر خطے کے سیاسی رحجانات بھی مذہبی اور مترقی گروپس میں بٹتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
ماضی میں بھی امریکہ نے اتحادیوں کے ساتھ ملکر یہ کام جرمنی کے ساتھ بھی کرچکا ہے ،جب دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کو شکست فاش ہوئی تو نہ صرف اس کے ٹکڑے بخرے کرکے چھوڑدیا بلکہ اس میں جنگ میں امریکہ اور اتحادی افواج کا جتنا تقصان ہوا تھا وہ واجبات بھی جرمنی کے ذمہ تھے ۔ اس جنگ میں ایک رف اسٹیمٹ کے مطابق اس جنگ میں 61 ملکوں نے حصہ لیا۔ ان کی مجموعی آبادی دنیا کی آبادی کا 80 فیصد تھی۔ اور فوجوں کی تعداد ایک ارب سے زائد۔ تقریباً 40 ملکوں کی سرزمین جنگ سے متاثر ہوئی۔ اور 5 کروڑ کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے بعض اعداد و شمار کے مطابق 7 کروڑ کے لگ بھگ مارے گئے۔ سب سے زیادہ نقصان روس کا ہوا۔ تقریباً 2 کروڑ روسی مارے گئے۔ اور اس سے اور کہیں زیادہ زخمی ہوئے۔ تقریبا روس کے 17100000 شہری زخمی ہوئے اور 70000 گاؤں اور قصبے 32000 کارخانے تباہ ہوئے۔ پولینڈ کے 600،000، یوگوسلاویہ کے 1700000 فرانس کے 600000 برطانیہ کے 375000 اور امریکا کے 405000 افراد کام آئے۔ تقریباً 6500000 جرمن موت کے گھات اترے اور 1600000 کے قریب اٹلی اور جرمنی کے دوسرے حلیف ملکوں کے افراد مرے۔ جاپان کے 1900000 آدمی مارے گئے۔ جنگ کا سب سے ظالمانہ پہلو ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکا کا ایٹمی حملہ تھا۔ جاپان تقریباً جنگ ہار چکا تھا لیکن دنیا میں انسانی حقوق کے نام نہاد ٹھیکے دار امریکا نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
پہلی جنگِ عظیم دراصل یورپ کی سامراجی طاقتوں کی باہمی جنگ تھی مگر گزشتہ صدی سے برطانیہ اور فرانس نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف جو کارروائیاں کی تھیں، اور امریکا نے کس چالاکی سے اس جنگ عظیم کے حصے بنے اور جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا ۔ ان کے باعث نوجوان ترک نامی تنظیم ان طاقتوں کے خلاف تھی۔ 1908ء میں خلیفہ عبدالحمید ثانی کو دستبرداری پر مجبور کر کے نوجوان ترک با اثر ہو چکے تھے پہلی جنگ عظیم کا بنیادی مقصد یہ ہی خلافت عثمانیہ کو توڑوانا تھا ، جنگ عظیم اول کے دوران سلونیکا نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف برطانیہ، فرانس اور اٹلی کے اتحادی افواج کے آپریشنز میں بیس کیمپ کا کردار ادا کیا۔ 1908 ء سے 1918ء تک سلطنت عثمانیہ پر جواں ترک تحریک کے تین پاشاؤں کی حکومت رہی۔ طلعت پاشا وزیر داخلہ، انور پاشا وزیر جنگ اور احمد جمال پاشا وزیر بحریہ۔ یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ جنگ عظیم اول کے دورانیہ میں سلطنت کے اہم ترین فیصلہ ان کے ذریعے صادر کیے گئے۔ ان میں انور پاشا لیبیا اور بلقان کی جنگ میں ناکامی اور احمد جمال پاشا سوئز اور عرب بغاوت کی ناکامی اور آرمینیائی نسل کشی کا ذمہ دار رہا جبکہ طلعت پاشا جرمنی سے اتحاد کا ذمہ دار قرار پایا۔ یہ تینوں ترکی کو جنگ عظیم میں دھکیلنے کے بھی براہ راست ذمہ دار تھے جس نے سلطنت کی عسکری قوت کو بری طرح تباہ کرکے رکھ دیا۔ 1916ء کے دوران جرمنی نے اتحادیوں کے خلاف زہریلی گیس بھی استعمال کی تھی۔ 1917ء میں ایک جرمن آبدوز نے ایک امریکی بحری جہاز غرق کر دیا( بلکل جیسے آج ایران اور بشار الاسد پر الزامات لگاتے) تو امریکہ بھی 6 اپریل کو اتحادیوں کے حق میں جنگ میں شامل ہو گیا۔ امریکی افواج اور امریکی وسائل کی شمولیت سے جنگ کا پانسا اتحادیوں کے حق میں پلٹ گیا۔ اگلے سال جرمنی امن معاہدے کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا جس پر 11 نومبر 1918ء کو دستخط ہوئے ۔ یوں مغربی محاذ پر جنگ ختم ہو گئی۔ مشرقی محاذ پر نومبر 1917ء میں کمونسٹ انقلاب روس کے باعث خاموشی چھا گئی تھی۔مشرق وسطیٰ میں برطانیہ نے انڈین آرمی کی مدد سے عراق، فلسطین اور اردن پر قبضہ کر لیا تھا اور اکتوبر 1918ء میں شام بھی سلطنت عثمانیہ کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ 7 اکتوبر 1918ء کو ترکی کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کر جواں ترک حکومت نے استعفیٰ دیدیا۔ اگرچہ ہر محاذ پر ترک فوج ناکام نہیں تھی تاہم 30 اکتوبر 1918ء کو مدروس معاہدے پر دستخط کر دیے گئے جس کے تحت سلطنت عثمانیہ نے ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر برطانیہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ معاہدے کے مطابق سلطنت عثمانیہ حجاز (مکہ اور مدینہ) یمن، شام، میسوپوٹامیہ (عراق) ٹریبولیٹانیہ اور سائرنیشیا (موجودہ لیبیا) سے دست بردار ہوگئی۔ اتحادیوں نے آبنائے باسفورس کو اپنے قبضے میں لے لیا۔۔ 30 اکتوبر کو ترکی نے عارضی صلح نامے پر دستخط کر دیے۔ جنگ کے اختتام پر 1919ء میں صلح نامہ ورسائی طے پایا۔ اور بالآخر اس طرح سے خلاف عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔
جبکہ آج پھر چین دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی قوت کے طور ابھر رہی تھی ۔ مجھے اج بھی اچھی طرح سے یاد ہے کہ بی بی سی نیوز نے دسمبر 1999ء کے دوران پورے مہنے چین کی معاشی قوت پر ایک پروگرام "Who will be the next emerging Global super power " کے نام سے چلایاگیا تھا ۔ آج بیس سال بعد واقعی چین دنیا کا معاشی قوت بننے جارہا تھا۔ ایک بات کی وضاحت کرتا جاؤں کہ دنیا میں ہردور میں طاقت کا مرکز بدلتا رہتا ہے جیسے پہلے بڑی بڑی افواج ، یا بڑے بڑے رقبے ، اس کے بعد ایٹم بم اور وقت گزرنے کے بعد اب موجودہ دور میں معیشت طاقت کا مرکز گردانا جاتا ہے ۔ جبکہ ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلجنس اور آنفارمیشن ٹیکنالوجی یا بائیولوجیکل وار فئیر اس کا محور ہو۔ بہرحال موضوع کی طرف آتا ہوں کہ موجودہ دور میں چین چونکہ ایک معاشی قوت کے طور پر دنیا پر چھا رہا تھا۔ لیکن اسے پھر پتہ نہیں کس کی بری نظر لگ گئی ہے ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ کورونا وائرس چین کے ووہان شہر سے دنیا بھر میں پھیلا تھا۔ اور اگرچہ چین اور امریکا ایک دوسرے پر الزامات بھی لگاتے رہے لیکن بہر صورت ٹھوس ثبوت کوئی پیش نہ کرسکے ۔
اس وقت ہر ملک اپنے طور پر اور عالمی ادارہ صحت کے ہدایات پر ملک میں لاک ڈاؤن کرتے رہے ، رفتہ رفتہ یہ لاک ڈاون اور شٹ ڈاؤن دنیا بھر کے ممالک میں پھیل گیا ۔ اس وقت ایک معاشی ادارہ بلوم برگ کے مطابق دنیا کے معیشت کو تقریبا 5 ٹریلین ڈالر تقصان ہوچکا ہے ۔ اس وقت دنیا میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کرگئ ، اور متاثرہ افراد بھی 30 لاکھ سے زائد ہیں۔ ایک رپورٹ انٹرنیشنل ریلیف کمیٹی کے نام سے بین الاقوامی امدادی تنظیم کے سربراہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے پیش کی ہے کہ اگر اقدامات نہیں کیے گئے، تو افغانستان ، شام اور یمن سمیت دنیا کے دیگر 34 ممالک میں کورونا وائرس سے ایک ارب سے زائد افراد کو متاثر ہوسکتے ہیں اور 30 لاکھ سے زائد افراد کو ہلاک ہوسکتے ہیں۔ انھوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ادارہ صحت کے فنڈز روکنے پر بھی شدید نقطہ چینی کی ہے۔ ۔ اور دنیا بھر کے ممالک سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ اس بیماری سے بچاؤ کے لئے ویکسین بنا جائے ۔ دنیا میں اس وقت 68 ممالک اس کام میں لگے ہوئے ہیں جبکہ بل گیٹس فاؤنڈیشن بھی اس میں پیش پیش ہے ۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک جیسے روس ، چین ،آسٹریلیا وغیرہ تیسری دنیا کے ممالک کی مدد کررہے ہیں۔ چین نے اپریل کے ایک ہفتے کے دوران 4 بلن ماسک دنیا کے مختلف ممالک کو دئیے ۔ اور ساتھ میں وینٹی لیٹرز ، پروٹیکٹیو کٹس ، اور ٹیسٹ کٹس وغیرہ دئے ۔ حال یہ ہے کہ کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے ترکی نے فوجی مال بردار جہاز کے ذریعے 5 لاکھ سرجیل ماسک اور 4 ہزار حفاظتی لباس سمیت طبی امدادی سامان امریکہ بھیج دیا ہے۔ ترکی 55 ممالک کو طبی سامان فراہم کر چکا ہے۔
اب آتے ہیں خاص موضوع کی طرف جب یہ کورونا وائرس دنیا سے ختم ہوجائے گا ۔ تب کیا ہوگا ؟ دنیا میں جو معاشی بحران آیا تھا ۔ اس کا زمہ دار کون ہوگا ؟ اس کے نتا ئج کیا ہونگے ؟ سب سے پہلے دنیا کے تمام ممالک آئستہ آئستہ جزوی طور لاک ڈاؤن ختم کردیئےگے ، یا سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف چلے جائیں گے ۔ اس کے بعد دنیاکے چند بڑے بڑے ممالک اس کورونا وائرس کےپهلاؤ کی تحقیقات کا مطالبہ کریں گے ۔ کہ اس کا قصور وار کون ہے ؟ اس کے بعد بعض ممالک انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں کیس فائل کریں گے کہ کو رونا وائرس کے سبب ہمارے ملک کا اتنا نقصان ہوا ہے ، چونکہ یہ وائرس چین کی سرزمین سے پھیلا ہے تو اسے یہ میرے ملک کا نقصان پورا کرنا ہوگا۔ اس کے بعد چند ایک ممالک براہ راست چین کو حرجانے کی تفصیلات کا بل بھیج دیں گے یا چائنا کے قرضوں کی ادائیگی سے انکار کر دیں گے ، اس طرح چین کو دنیا میں بلکل تنہا کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ لیکن اس دوران دنیاکے چند بااختیار ممالک جیسے روس اور ایران کے ممالک یقینی طور اور ترکی شاہد چین کے ساتھ مل جائیں گے اور دیرانہ دوست پاکستان کا اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ کیونکہ ایک طرف پاک چین کی لازوال دوستی ، سی پیک ، جے ایف تھنڈر طیارے اور میزائیل وغیرہ ہیں جبکہ دوسری طرف آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک ، ڈالرز ، ایف 16 طیارے اور دیگر مجبوریاں ۔۔۔ اس طرح دنیا واضح طور پر دو 2 بلاکس میں تقسیم ہوگا ، ایک معاشی قوت سوشلیسٹ چین اور سپر پاور کپیٹلسٹ امریکہ ہوگا۔ یقننا امریکہ کے بلاک ممالک زیادہ ہونگے ۔ اس کے بعد چین پر شاہد تجارتی پابندیاں لگائیں جائیں گئ۔ اور ایک تجارتی جنگ شروع ہوجائے گی یا ساؤتھ چائنا سی میں روایتی جنگ بھی ہوسکتی ہے، جس کو ہم تیسری جنگ عظیم کا نام بھی دے سکتے ہیں ۔ اس کے ردعمل میں چین نہ تو جرمنی کی طرح کمزور اور نہ ہی روس کی طرح بے بس قوم ہے تو وہ بھی اس معاشی جنگ کو مزید وسعت دےگا۔ جیسا ہم دیکھ چکے کہ چینی موبائل کمپنی ہواوئے اور امریکی موبائل کمپنی ایپل کے درمیان جنگ میں چین نے بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا جبکہ امریکا نے گوگل کو اپنا انڈروئڈ اسسٹم سے نکلنے کو کہا تو ہواوئے نے دنیا کو اپنا اپریٹینگ سسٹم متعارف کروایا۔ اگر امریکہ کوئی بھی تجارتی جنگ کا آغاز کرے گا تو چین کے پاس بھی بہت سارے آپشن ہیں جیسے وہ اپنے تمام ڈالرز کو سونے یا کسی اور ڈیجٹل یا کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرسکتے ہیں اور آئندہ ملکوں سے کاروبار چائنز کرنسی یان میں کرسکتا ہے ۔ اس وقت دنیا کے ضرویات اشیاء کی 28 فیصد چین پورا کرتا ہے ۔ چین، جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، ماؤ کے ثقافتی انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ منفی شرحِ نمو رکھنے والی سہ ماہی کی طرف جانے والی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ چین میں وباء پر قابو پا لیا گیا ہے، مگر اب بھی ہوبئے صوبے میں خدمات کا شعبہ بند پڑا ہے۔ بڑی صنعتیں اپنی پیداوار دوبارہ شروع کر رہی ہیں مگر پوری دنیا کے بحران میں ہونے کی وجہ سے طلب بہت کم ہے۔ چھوٹی اور درمیانی صنعت، جہاں چین کے تقریباً 80 فیصد محنت کش کام کرتے ہیں، تاحال فعال نہیں ہو سکی۔اب اگر امریکہ اور چین ایک نئے تیسری عالمی جنگ یا معاشی کی جنگ کی طرف جائیں گے تو ان جنگوں سے دنیا کے ممالک کی سیاست اور معیشت پر کیا اثرات مرتب ہونگے ۔ کیا ایک بار پھر سے دنیا کے نقشے بدلے گے یاوفاداریاں بدلی گئیں۔ اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔
پڑھنے کا بہت بہت شکریہ اپ نے اس آرٹیکل سے کیا نتیجہ اخذ کیا اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں شکریہ
تحریر و تحقیق خیرمحمد ترین