American China Trade War
American China Trade War
بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ یا تیسری جنگ عظیم ٹریڈ وار کی شکل میں شروع !!!کیا کورونا وائرس کے بعد کرہ ارض ایک بار پھر دو بلاک میں تقسیم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے ؟ یا واقعی ایک نیوورلڈ آرڈر نافذالعمل ہوجائے گا۔ اب جو میدان جنگ تیسری جنگ عظیم کےلئے سجنے جارہا ہے وہ ابھرتے ہوئے معاشی قوت سوشلیسٹ چین اور جبکہ کمیونسٹ روس جبکہ مقابلے میں سپر پاور کپیٹلسٹ امریکہ بمعہ اتحادیوں کے درمیان ہوگا؟ کیا دنیا کے مختلف خطوں میں الگ الگ محاذوں پر جنگ کے آغاز ہونگے ۔ یہ آرٹیکل ایک ہفتے کی مشقت سے لکھا ہے آپ کے آراء کا منتظر ہوں !
امریکہ دنیا کا واحد سپر پاور ہے اور اس کو برقرار رکھنے کے لئے زمین پر جو بھی ملک کسی بھی صورت میں چاہیے عسکری قوت ہو ، وسعت پسندی کی قوت ، یا پھر معاشی قوت کے طور پر ابھر رہا ہو ، یا اپنا ہی کوئی نظام لانا چاہتے ہو۔ اس کی سر مختلف طریقوں سے کچل دیا جاتاہے، آج سے کئی عشرے قبل جب دنیا کمیونسٹ اور کیپٹلسٹ بلاک میں منقسم تھی اور انکی اپس کے سرد جنگ کیوجہ سےجنوبی ایشیاء کا پورا خطہ اور خصوصا پشتون وطن خصوصی طور پر بفر اسٹیٹس کا کردار ادا کررہا تھا۔جب کبھی یہ خفیہ اور پس پردہ جنگیں اپنے عروج پر تھیں تو پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں اور خطے کے سیاسی رحجانات بھی مذہبی اور مترقی گروپس میں بٹ چکے تھے ۔ باچا خان رح نے اس وقت بھی کیا خوب کہا تھا کہ " امریکہ اور روس دو بد مست سانڈ ہیں انکی لڑائی میں ہم مینڈک کی طرح کچل جاینگے " چونکہ اس وقت یہ جنگیں روس کے ساتھ تھیں ۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے بڑے کہا کرتے تھے کہ روسی ٹی وی ، ریڈیو اور فرج نہیں خریدنے چائیے چونکہ یہ پھٹ سکتے کیونکہ اس میں بارودی مواد ڈالتے ہیں ۔ اور طرح طرح کے داؤ و پیچ سے روس کو توڑ کر رکھ دیا، اب ایک بار وہی ویشئیس سرکل دہرایا جا رہا ہے لیکن اب جو میدان سجنے جارہا ہے وہ ابھرتے ہوئے معاشی قوت سوشلیسٹ چین اور سپر پاور کپیٹلسٹ امریکہ کے درمیان ہوگا۔ اور ایک بار پھر خطے کے سیاسی رحجانات بھی مذہبی اور مترقی گروپس میں بٹتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
ماضی میں بھی امریکہ نے اتحادیوں کے ساتھ ملکر یہ کام جرمنی کے ساتھ بھی کرچکا ہے ،جب دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کو شکست فاش ہوئی تو نہ صرف اس کے ٹکڑے بخرے کرکے چھوڑدیا بلکہ اس میں جنگ میں امریکہ اور اتحادی افواج کا جتنا تقصان ہوا تھا وہ واجبات بھی جرمنی کے ذمہ تھے ۔ اس جنگ میں ایک رف اسٹیمٹ کے مطابق اس جنگ میں 61 ملکوں نے حصہ لیا۔ ان کی مجموعی آبادی دنیا کی آبادی کا 80 فیصد تھی۔ اور فوجوں کی تعداد ایک ارب سے زائد۔ تقریباً 40 ملکوں کی سرزمین جنگ سے متاثر ہوئی۔ اور 5 کروڑ کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے بعض اعداد و شمار کے مطابق 7 کروڑ کے لگ بھگ مارے گئے۔ سب سے زیادہ نقصان روس کا ہوا۔ تقریباً 2 کروڑ روسی مارے گئے۔ اور اس سے اور کہیں زیادہ زخمی ہوئے۔ تقریبا روس کے 17100000 شہری زخمی ہوئے اور 70000 گاؤں اور قصبے 32000 کارخانے تباہ ہوئے۔ پولینڈ کے 600،000، یوگوسلاویہ کے 1700000 فرانس کے 600000 برطانیہ کے 375000 اور امریکا کے 405000 افراد کام آئے۔ تقریباً 6500000 جرمن موت کے گھات اترے اور 1600000 کے قریب اٹلی اور جرمنی کے دوسرے حلیف ملکوں کے افراد مرے۔ جاپان کے 1900000 آدمی مارے گئے۔ جنگ کا سب سے ظالمانہ پہلو ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکا کا ایٹمی حملہ تھا۔ جاپان تقریباً جنگ ہار چکا تھا لیکن دنیا میں انسانی حقوق کے نام نہاد ٹھیکے دار امریکا نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
پہلی جنگِ عظیم دراصل یورپ کی سامراجی طاقتوں کی باہمی جنگ تھی مگر گزشتہ صدی سے برطانیہ اور فرانس نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف جو کارروائیاں کی تھیں، اور امریکا نے کس چالاکی سے اس جنگ عظیم کے حصے بنے اور جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا ۔ ان کے باعث نوجوان ترک نامی تنظیم ان طاقتوں کے خلاف تھی۔ 1908ء میں خلیفہ عبدالحمید ثانی کو دستبرداری پر مجبور کر کے نوجوان ترک با اثر ہو چکے تھے پہلی جنگ عظیم کا بنیادی مقصد یہ ہی خلافت عثمانیہ کو توڑوانا تھا ، جنگ عظیم اول کے دوران سلونیکا نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف برطانیہ، فرانس اور اٹلی کے اتحادی افواج کے آپریشنز میں بیس کیمپ کا کردار ادا کیا۔ 1908 ء سے 1918ء تک سلطنت عثمانیہ پر جواں ترک تحریک کے تین پاشاؤں کی حکومت رہی۔ طلعت پاشا وزیر داخلہ، انور پاشا وزیر جنگ اور احمد جمال پاشا وزیر بحریہ۔ یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ جنگ عظیم اول کے دورانیہ میں سلطنت کے اہم ترین فیصلہ ان کے ذریعے صادر کیے گئے۔ ان میں انور پاشا لیبیا اور بلقان کی جنگ میں ناکامی اور احمد جمال پاشا سوئز اور عرب بغاوت کی ناکامی اور آرمینیائی نسل کشی کا ذمہ دار رہا جبکہ طلعت پاشا جرمنی سے اتحاد کا ذمہ دار قرار پایا۔ یہ تینوں ترکی کو جنگ عظیم میں دھکیلنے کے بھی براہ راست ذمہ دار تھے جس نے سلطنت کی عسکری قوت کو بری طرح تباہ کرکے رکھ دیا۔ 1916ء کے دوران جرمنی نے اتحادیوں کے خلاف زہریلی گیس بھی استعمال کی تھی۔ 1917ء میں ایک جرمن آبدوز نے ایک امریکی بحری جہاز غرق کر دیا( بلکل جیسے آج ایران اور بشار الاسد پر الزامات لگاتے) تو امریکہ بھی 6 اپریل کو اتحادیوں کے حق میں جنگ میں شامل ہو گیا۔ امریکی افواج اور امریکی وسائل کی شمولیت سے جنگ کا پانسا اتحادیوں کے حق میں پلٹ گیا۔ اگلے سال جرمنی امن معاہدے کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا جس پر 11 نومبر 1918ء کو دستخط ہوئے ۔ یوں مغربی محاذ پر جنگ ختم ہو گئی۔ مشرقی محاذ پر نومبر 1917ء میں کمونسٹ انقلاب روس کے باعث خاموشی چھا گئی تھی۔مشرق وسطیٰ میں برطانیہ نے انڈین آرمی کی مدد سے عراق، فلسطین اور اردن پر قبضہ کر لیا تھا اور اکتوبر 1918ء میں شام بھی سلطنت عثمانیہ کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ 7 اکتوبر 1918ء کو ترکی کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کر جواں ترک حکومت نے استعفیٰ دیدیا۔ اگرچہ ہر محاذ پر ترک فوج ناکام نہیں تھی تاہم 30 اکتوبر 1918ء کو مدروس معاہدے پر دستخط کر دیے گئے جس کے تحت سلطنت عثمانیہ نے ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر برطانیہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ معاہدے کے مطابق سلطنت عثمانیہ حجاز (مکہ اور مدینہ) یمن، شام، میسوپوٹامیہ (عراق) ٹریبولیٹانیہ اور سائرنیشیا (موجودہ لیبیا) سے دست بردار ہوگئی۔ اتحادیوں نے آبنائے باسفورس کو اپنے قبضے میں لے لیا۔۔ 30 اکتوبر کو ترکی نے عارضی صلح نامے پر دستخط کر دیے۔ جنگ کے اختتام پر 1919ء میں صلح نامہ ورسائی طے پایا۔ اور بالآخر اس طرح سے خلاف عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔
جبکہ آج پھر چین دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی قوت کے طور ابھر رہی تھی ۔ مجھے اج بھی اچھی طرح سے یاد ہے کہ بی بی سی نیوز نے دسمبر 1999ء کے دوران پورے مہنے چین کی معاشی قوت پر ایک پروگرام "Who will be the next emerging Global super power " کے نام سے چلایاگیا تھا ۔ آج بیس سال بعد واقعی چین دنیا کا معاشی قوت بننے جارہا تھا۔ ایک بات کی وضاحت کرتا جاؤں کہ دنیا میں ہردور میں طاقت کا مرکز بدلتا رہتا ہے جیسے پہلے بڑی بڑی افواج ، یا بڑے بڑے رقبے ، اس کے بعد ایٹم بم اور وقت گزرنے کے بعد اب موجودہ دور میں معیشت طاقت کا مرکز گردانا جاتا ہے ۔ جبکہ ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلجنس اور آنفارمیشن ٹیکنالوجی یا بائیولوجیکل وار فئیر اس کا محور ہو۔ بہرحال موضوع کی طرف آتا ہوں کہ موجودہ دور میں چین چونکہ ایک معاشی قوت کے طور پر دنیا پر چھا رہا تھا۔ لیکن اسے پھر پتہ نہیں کس کی بری نظر لگ گئی ہے ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ کورونا وائرس چین کے ووہان شہر سے دنیا بھر میں پھیلا تھا۔ اور اگرچہ چین اور امریکا ایک دوسرے پر الزامات بھی لگاتے رہے لیکن بہر صورت ٹھوس ثبوت کوئی پیش نہ کرسکے ۔
اس وقت ہر ملک اپنے طور پر اور عالمی ادارہ صحت کے ہدایات پر ملک میں لاک ڈاؤن کرتے رہے ، رفتہ رفتہ یہ لاک ڈاون اور شٹ ڈاؤن دنیا بھر کے ممالک میں پھیل گیا ۔ اس وقت ایک معاشی ادارہ بلوم برگ کے مطابق دنیا کے معیشت کو تقریبا 5 ٹریلین ڈالر تقصان ہوچکا ہے ۔ اس وقت دنیا میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کرگئ ، اور متاثرہ افراد بھی 30 لاکھ سے زائد ہیں۔ ایک رپورٹ انٹرنیشنل ریلیف کمیٹی کے نام سے بین الاقوامی امدادی تنظیم کے سربراہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے پیش کی ہے کہ اگر اقدامات نہیں کیے گئے، تو افغانستان ، شام اور یمن سمیت دنیا کے دیگر 34 ممالک میں کورونا وائرس سے ایک ارب سے زائد افراد کو متاثر ہوسکتے ہیں اور 30 لاکھ سے زائد افراد کو ہلاک ہوسکتے ہیں۔ انھوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ادارہ صحت کے فنڈز روکنے پر بھی شدید نقطہ چینی کی ہے۔ ۔ اور دنیا بھر کے ممالک سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ اس بیماری سے بچاؤ کے لئے ویکسین بنا جائے ۔ دنیا میں اس وقت 68 ممالک اس کام میں لگے ہوئے ہیں جبکہ بل گیٹس فاؤنڈیشن بھی اس میں پیش پیش ہے ۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک جیسے روس ، چین ،آسٹریلیا وغیرہ تیسری دنیا کے ممالک کی مدد کررہے ہیں۔ چین نے اپریل کے ایک ہفتے کے دوران 4 بلن ماسک دنیا کے مختلف ممالک کو دئیے ۔ اور ساتھ میں وینٹی لیٹرز ، پروٹیکٹیو کٹس ، اور ٹیسٹ کٹس وغیرہ دئے ۔ حال یہ ہے کہ کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے ترکی نے فوجی مال بردار جہاز کے ذریعے 5 لاکھ سرجیل ماسک اور 4 ہزار حفاظتی لباس سمیت طبی امدادی سامان امریکہ بھیج دیا ہے۔ ترکی 55 ممالک کو طبی سامان فراہم کر چکا ہے۔
اب آتے ہیں خاص موضوع کی طرف جب یہ کورونا وائرس دنیا سے ختم ہوجائے گا ۔ تب کیا ہوگا ؟ دنیا میں جو معاشی بحران آیا تھا ۔ اس کا زمہ دار کون ہوگا ؟ اس کے نتا ئج کیا ہونگے ؟ سب سے پہلے دنیا کے تمام ممالک آئستہ آئستہ جزوی طور لاک ڈاؤن ختم کردیئےگے ، یا سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف چلے جائیں گے ۔ اس کے بعد دنیاکے چند بڑے بڑے ممالک اس کورونا وائرس کےپهلاؤ کی تحقیقات کا مطالبہ کریں گے ۔ کہ اس کا قصور وار کون ہے ؟ اس کے بعد بعض ممالک انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں کیس فائل کریں گے کہ کو رونا وائرس کے سبب ہمارے ملک کا اتنا نقصان ہوا ہے ، چونکہ یہ وائرس چین کی سرزمین سے پھیلا ہے تو اسے یہ میرے ملک کا نقصان پورا کرنا ہوگا۔ اس کے بعد چند ایک ممالک براہ راست چین کو حرجانے کی تفصیلات کا بل بھیج دیں گے یا چائنا کے قرضوں کی ادائیگی سے انکار کر دیں گے ، اس طرح چین کو دنیا میں بلکل تنہا کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ لیکن اس دوران دنیاکے چند بااختیار ممالک جیسے روس اور ایران کے ممالک یقینی طور اور ترکی شاہد چین کے ساتھ مل جائیں گے اور دیرانہ دوست پاکستان کا اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ کیونکہ ایک طرف پاک چین کی لازوال دوستی ، سی پیک ، جے ایف تھنڈر طیارے اور میزائیل وغیرہ ہیں جبکہ دوسری طرف آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک ، ڈالرز ، ایف 16 طیارے اور دیگر مجبوریاں ۔۔۔ اس طرح دنیا واضح طور پر دو 2 بلاکس میں تقسیم ہوگا ، ایک معاشی قوت سوشلیسٹ چین اور سپر پاور کپیٹلسٹ امریکہ ہوگا۔ یقننا امریکہ کے بلاک ممالک زیادہ ہونگے ۔ اس کے بعد چین پر شاہد تجارتی پابندیاں لگائیں جائیں گئ۔ اور ایک تجارتی جنگ شروع ہوجائے گی یا ساؤتھ چائنا سی میں روایتی جنگ بھی ہوسکتی ہے، جس کو ہم تیسری جنگ عظیم کا نام بھی دے سکتے ہیں ۔ اس کے ردعمل میں چین نہ تو جرمنی کی طرح کمزور اور نہ ہی روس کی طرح بے بس قوم ہے تو وہ بھی اس معاشی جنگ کو مزید وسعت دےگا۔ جیسا ہم دیکھ چکے کہ چینی موبائل کمپنی ہواوئے اور امریکی موبائل کمپنی ایپل کے درمیان جنگ میں چین نے بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا جبکہ امریکا نے گوگل کو اپنا انڈروئڈ اسسٹم سے نکلنے کو کہا تو ہواوئے نے دنیا کو اپنا اپریٹینگ سسٹم متعارف کروایا۔ اگر امریکہ کوئی بھی تجارتی جنگ کا آغاز کرے گا تو چین کے پاس بھی بہت سارے آپشن ہیں جیسے وہ اپنے تمام ڈالرز کو سونے یا کسی اور ڈیجٹل یا کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرسکتے ہیں اور آئندہ ملکوں سے کاروبار چائنز کرنسی یان میں کرسکتا ہے ۔ اس وقت دنیا کے ضرویات اشیاء کی 28 فیصد چین پورا کرتا ہے ۔ چین، جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، ماؤ کے ثقافتی انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ منفی شرحِ نمو رکھنے والی سہ ماہی کی طرف جانے والی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ چین میں وباء پر قابو پا لیا گیا ہے، مگر اب بھی ہوبئے صوبے میں خدمات کا شعبہ بند پڑا ہے۔ بڑی صنعتیں اپنی پیداوار دوبارہ شروع کر رہی ہیں مگر پوری دنیا کے بحران میں ہونے کی وجہ سے طلب بہت کم ہے۔ چھوٹی اور درمیانی صنعت، جہاں چین کے تقریباً 80 فیصد محنت کش کام کرتے ہیں، تاحال فعال نہیں ہو سکی۔اب اگر امریکہ اور چین ایک نئے تیسری عالمی جنگ یا معاشی کی جنگ کی طرف جائیں گے تو ان جنگوں سے دنیا کے ممالک کی سیاست اور معیشت پر کیا اثرات مرتب ہونگے ۔ کیا ایک بار پھر سے دنیا کے نقشے بدلے گے یاوفاداریاں بدلی گئیں۔ اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔
پڑھنے کا بہت بہت شکریہ اپ نے اس آرٹیکل سے کیا نتیجہ اخذ کیا اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں شکریہ
تحریر و تحقیق خیرمحمد ترین

