زما ژوند او جدو جهد / لیکوال عبدالغفار خان باچا خان pdf book online book

زما ژوند او جدو جهد / لیکوال عبدالغفار خان باچا خان

زما ژوند او جدو جهد / لیکوال عبدالغفار خان باچا خان  
زما ژوند او جدو جهد / لیکوال عبدالغفار خان باچا خان

زما ژوند او جدوجهد د خان عبدالغفار خان ديو ليکلي اثر دي . په کتاب کي ليکوال خپل د ټول ژوند مبارزي ، سياسي او د عدم . 
تشددفلسفه
 او نوري ټولي هلي ځلي پکي بيان کړي دي  

کيا باچا خان واقعي غدار تهے ؟

فلسفہ عدم تشدد کے خالق خان عبد الغفار خان باچا خان رحمت اللہ علیہ (6 فروری 1890- 20 جنوری 1988) ایک عظیم تعلیمی مصلح سے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے تک کاسفر ! باچا خان پاکستان کے نہیں تقسیم ہند کے مخالف تھے‘ اور باچاخان نے جہالت کے خلاف مجاہدہ کیا، انھوں نے کبھی کوئی بغاوت نہیں کی تھی ! 
1948ء 
پاکستان کی اسمبلی میں حلف لیا اور پاکستانی شناخت کو مقدم جانا۔ پاکستانی سفارتکار ایس فدا یونس اپنی کتاب ’’تھانے سے سفارت تک‘‘ میں لکھتے ہیں ’’1969ء میں وہ کابل میں تعینات تھے اور باچا خان بھی افغانستان میں تھے، باچاخان کو گاندھی جی کی برسی میں شرکت کیلئے بھارت سے دعوت نامہ ملا، اُنکے پاکستانی پاسپورٹ کی میعاد ختم ہو چکی تھی، افغان حکومت نے افغان پاسپورٹ دینے کی پیشکش کی، کابل میں بھارتی سفیر نے کہا کہ باچاخان کو کسی پاسپورٹ، ویزے کی ضرورت نہیں، باچا خان نے کہا کہ وہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے پاکستان ہی کے پاسپورٹ پر سفر کریں گے۔ بحیثیت قونصل آفیسر میں نے باچا خان کی درخواست مع خط اپنی وزارتِ خارجہ کو ارسال کی اور منظوری آنے پر میں نے باچا خان کو نیا پاسپورٹ جاری کر دیا‘‘۔ ایسی اَن گنت مثالیں ہیں۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ایسے بےلوث رہنمائوں کی ہم نے وہ قدر نہ کی جسکے وہ مستحق تھے۔ غالبؔ نے کہا تھا۔
وہ لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
ڈھونڈا تھا جن کو آسماں نے خاک چھان کے
باچا خان بابا نے 108 سال قبل قوم کو اندھیروں کا راہی بننے سے روکنے کی خاطر " آزاد مدرسوں اسکولوں" کے قیام کا بیڑا اٹھایا اور علمائے حق کے قافلے میں مولوی عبد العزیز کے ہمراہ 1920ء میں چار سدہ اپنے آبائی گاؤں اُتمانزئی میں پہلے آزاد مدرسہ اسکول کی بنیاد رکھی۔ ان سکولوں میں پڑھایا جانے والا نصاب امن، برداشت اور ہم آہنگی کے فروغ کے پیش نظر ترتیب دیا گیا ہے۔ زیر تعلیم بچوں سے فیس نہیں لی جاتی بلکہ کتابیں اور یونیفارم مفت فراہم کی جاتی تھیں۔ پشتو، اردو اور انگریزی سمیت سائنسی علوم کے مضامین پہلی جماعت سے پڑھائی جاتی تھی۔
باچا خان بابا نے 1920 ء میں اپنے آبائی گاؤں سے آزاد مدرسہ سکول کے نام سے پښتون علاقوں میں سکولوں کے قیام کا آغاز کیا تھا۔ کچھ ہی عرصے میں انہیں پورے صوبہ خیبر پختوخوا میں پھیلا دیا گیا اور ان سکولوں کی تعداد 137 تک پہنچ گئی تھی جن کی تعداد اُس وقت کے سرکاری سکولوں سے زیادہ تھی۔ باچا خان کی روشن خیالی کی راہ میں انگریز اور اس کے حواری دیوار کھڑی نہ کرتے تو آج یہ خطہ علم کا مرکز ہوتا۔
ممتاز کلاسیکل شاعر و فلسفی غنی خان بابا اِسی آزاد مدرسے اسکول سے فارغ التحصیل تھے۔ فنون لطیفہ کی مزید تربیت برطانیہ سے حاصل کی۔ والد کی ہدایت پر امریکا میں اُنھوں نے شوگر ٹیکنالوجی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے باچا خان نے بھیجوایا لیکن جب انگریز حکومت نے1931ء میں باچا خان کو گرفتار کیا تو ان کی ساری جائیداد بنجر ہوگئی اور ان حالات کی وجہ سے اُنھیں تعلیم ادُھوری چھوڑ کرواپس آنا پڑا۔ جبکہ خان عبدالولی خان حجروں اور مساجد کے اِجتماعات میں خُوش الحانی سے قرات کرتے تھے ، جبکہ تیسرے صاحبزادے اور سابق سیکرٹری تعلیم عبدالعلی خان عرف لالی کی تعلیمی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں، انھوں نے آکسفورڈ سے ایم اے کیا۔ باچا خان کی تین نواسیاں ڈاکٹر ہیں ۔
قوم میں تعلیم کا شعور پیدا کرکے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کرنے والے صف اول کے سپاہی تھے ۔ خان عبدالغفار خان باچا خان بابا کو اپنی قوم سے بے فناء محبت تھی اور وہ یہی چاہتے تھے کہ اگر ترقی کرنی ہے تو تعلیم کو اپنا ہتھیار بنانا ہوگا۔ ڈاکٹر خان صاحب نے باچا خان کو اِنگلینڈ آنے کی دعوت دی کہ وہ یہاں آکر انجنئیرنگ کی تعلیم مکمل کرلیں لیکن باچا خان نے وطن و قوم کے خاطر ان کی پیشکش کو ٹھکرا دیا. وه پښتون قوم میں تعلیم کا شعور پیدا کرکے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم دینا چاہتے تھے۔ تاریخ میں مخالفیں نے ہمیشہ غدار کا نام دیا ہے ۔ باچا خان کی زندگی کا یہ غیر معمولی گوشہ ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے۔ 
باچا خان فرماتے ہیں کہ
" جب میں نے 1921ء میں پہلا آذاد سکول کھولا تو ہمارے پاس اُستادوں کی بہت کمی تھی. اسلیئے کبھی کبھی میں خود بھی بچوں کو پڑھاتا تھا. دوسری بات یہ کہ ہمارے پاس پیسوں کی کمی تھی اور اُستادوں کو اچھی تنخواہیں بھی نہیں دے سکتے تھے. لاهور میں خلافت کانفرنس کیلئے گیا تها۔ وہاں ضلع بنوں کے گاؤں میراخیل سے تعلق رکھنے والے امیر مختار خان سے ملاقات ہوئی. انھوں نے اپنے دو بیٹے ہمارے سکول میں پڑھانے کیلئے بخش دیئے . بڑے کا نام امیر ممتاز خان اورچھوٹے کا نام مقصود جان تھا. مقصود جان صاحب سکول ہذا کے پہلے ھیڈ ماسٹر بھی تھے۔
انگریزوں کے لیے تعلیم یافتہ پشتون ناقابل قبول تھا۔ انگريز کو ہمارے سکول پسند نہیں تھے. وه ہمارے استادوں کو ڈراتے دهمکاتے اس پہ کام نہ هوتا تو اچھی تنخواہ کا لالچ دیتے وہ ہمارے سکولوں میں اُستادوں کو نہیں چھوڑتے تھے. لوگوں میں تعلیم، بھائی چارہ، محبت اور قوم پرستی کاجذبہ پیدا کرنے کیلئے میں نے گاؤں گاؤں گھر گھر کے دورے شروع کئے. میرے ان دوروں سے انگریز خوفزدہ ہوگئے.
سرھملٹن گرانٹ ہمارے صوبے کا چیف کمشنر تھا انہوں نے میرے والد صاحب کوبلایا اور کہا کہ آپ کا بیٹا باچاخان کیا کر رہا ہے، سب لوگ خاموش بیهٹے ہیں وہ سکول کھولے جارہا ہے اور دورے کررہا ہے. انگریز حکومت سے آذدی کیلئے لوگوں کو اُکسا رہاہے. یہ ٹھیک کام نہیں ہے بیٹے کوسمجھاؤ اور منع کرو ان کاموں سے سعدالله جو چیف کمشنر کا سیکرٹری تھا انہوں نے میرے بابا کو کہا کہ چیف کمشنر آپکی بہت عزت کرتا ہے. آپ چیف کمشنرکیلئے اپنے بیٹے کو نہیں روک سکتے.
میرے والد صاحب آئے مجھے بٹھایا اور سمجھانے لگا کہ غفار خان بیٹے آپ بڑے اور معزز گھرانے کے ایک ذمہ دار فرد ہو زندگی کی تمام سہولیات آپ کو میسر ہیں، تو آپ اتنے طاقتور اور ظالم لوگوں سے دشمنی کیوں مول لے رہے ہو. سب لوگ خاموش ہیں آپ کیوں حکومت کو ناراض کر رہے ہو. میں نے کہا ٹھیک ہے بابا آپ چاہتے ہیں تو نہیں کرونگا. بہت لوگوں نے نماز چھوڑی ہے، میں بھی نماز نہیں پڑونگا پھر آپ یہ نہ کہے کہ نماز کیوں نہیں پڑهتے. بابا نے کہا نماز تو بیٹا فرض هے وہ کیسے چھوڑا جاسکتا ہے. میں نے کہا کہ نماز کی طرح علم بھی ہر مرد و عورت پر فرض ہے. تعلیم کے بعد انگریز شاہد نماز پر بھی پابندی لگائے تو نماز بھی چھوڑنی پڑے گی. اگلے دن میرا بابا کمشنر صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ آپ لوگوں کی خوشنودی کیلئے ہم اپنے دین کو نہیں چھوڑ سکتے.
گیارہ دسمبر 1921ء کو ہم سکول میں فٹبال گراونڈ بنانے کے کام میں لگے تھے کہ پولیس والے آئے اور مجھے پکڑ کر لے گئے. کل ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیا گیا. میرا جرم سننے کے بعد ڈپٹی کمشنر نے مجھے 3 سال قید بمشقت کی سزا سنائی اور جیل بهیج دیا." باچا خان مجموعی طور پر 35 سال پس زندان گذارے ، لیکن یہ ایک منفرد واقعہ ہے کہ آپ نے زندگی کی پہلی قید قوم کے بچوں کو زیور تعلیم کرنے کے"جُرم"میں کاٹی، 1924ء میں رہا ہوئے تو آپ کا والہانہ ِاِستقبال پختون روایات کے مطابق کیا گیا اور انواع و اقسام کے کھانے پیش خدمت کئے جانے کیلئے تقریبات میں مدُعو کرنے کی کوشش کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ" جو رقم آپ لوگ کھانے اور دیگر تقریبات پر خرچ کرنا چاہتے ہیں ، وہ گاؤں کے اسکول کے فنڈ میں جمع کرادیں۔ "
ﷲ بخش یوسف اپنی کتاب "صوبہ سرحد اور جدوجہد آزادی"میں ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ جب باچا خان کے والد بہرام خان جو علاقے کے بہت بڑے خان تھے ، انتقال ہوا تو دور دور سے مولوی صاحبان اس توقع کے ساتھ آئے کہ انہیں بہت"خیرات"ملے گی لیکن جب تدفین کے بعد"خیرات"کا موقع آیا تو مولوی صاحبان کو مخاطب کرتے ہوئے باچا خان گویا ہوئے کہ" احادیث میں صدقہ جاریہ کی تلقین کی گئی ہے لہذا میں والد صاحب کے ایصال ثواب کیلئے دو ہزار روپے گاؤں کے مدرسے میں بطورصدقہ جاریہ دیتا ہوں۔"ظاہر ہے کہ اس کے بعد اُن مولوی صاحبان کے غم و غصے کا کیا حال ہوا ہوگا۔ "
صوبہ سرحد اور موجودہ خیبر پختونخوا میں باچا خان کی خدائی خدمت گار تحریک پر ایک کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر مُوکُولیکا بینرجی کا کہنا تھا لوگوں کو اتنے بڑے پیمانے پر متحرک کرنے والی یہ ایک عظیم تحریک تھی جس کے پیچھے باچا خان کی شخصیت اور فکری توانائی کارفرما تھی۔
'باچاخان نے گاؤں گاؤں جاکر آزاد سکول کے نام سے بنیادی تعلیمی ادارے قائم کیے اور انگریز استعمار کے خلاف پختون عوام میں شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو گاؤں کی صفائی جیسے رفاہِ عامہ کے کام پر لگایا۔ اپنے علاقے کا خان ہونے کے باوجود انہوں نے ہاتھ میں جھاڑو پکڑی اور دوسروں کو بھی صفائی کی ترغیب دی۔'
ڈاکٹر بینرجی کا کہنا تھا کہ اپنی جنگجویانہ فطرت کے لیے مشہور پختون عوام کو انہوں نے جس طرح عدم تشدد اور پُرامن طریقے سے اپنے مقصد کے حصول کے لیے متحرک کیا اس کی مثال کم ملتی ہے۔
انگریزوں کو تعلیم یافتہ پشتون ناقابل قبول تھے اور انگریز یہ بھی جانتا تھا کہ اگر تلوار کے ماہر قلم کے شیدائی بن گئے تو پھر انھیں زیر کرنا ناممکن ہوجائے گا لہذا انگریز ڈپٹی کمشنر سر ہملٹن گرانٹ نے باچا خان کے قائم مدارس آزاد مدرسہ (اسکولوں) کے خلاف کاروائی کیلئے اپنے ایجنٹ دلاور خان کو اسسٹنٹ کمشنر بنا کر بھیجا جس نے تحریک خلافت کو کچلنے کے باعث شہرت پائی تھی لیکن یہاں ایسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا باچا خان کے ان 
آزاد مدرسہ (اسکولوں) نے بیرون صوبوں میں کافی شہرت پالی تھی لہذا ہندوستان کے کونے کونے سے اور خاص طور بلوچستان سے آپ کو مدعو کیا جانے لگا ۔جس پر انگریز سرکار نے چراغ پا ہو انھوں نے اسکولوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرڈالا اور باچا خان کے آزاد مدارس (اسکولوں) کے خلاف بھر پور کاروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے جگہ جگہ اساتذہ کو گرفتار کئے جانے لگا۔ اس سلسلے کا پہلا سکول چارسدہ اتمانزئی میں باچا خان نے ذاتی حیثیت سے قائم کیا تھا جس کو انگریز حکومت نے بند کرادیا۔ بعد میں دو مزید سکولز مردان کے علاقے گدر اور ضلع دیر میں کھولے گئے۔ گدر میں قائم سکول کو انگریز سرکار نے اور دیر کے سکول کو نواب آف دیر نے بند کرادیا۔ پابندیوں کے باوجود باچا خان اور ان کے مخلص دوستوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ باچاخان نے پختون قوم کو عدم تشدد کا فلسفہ دیا اور علمی و فکری نشوونما کے ساتھ ان کی سیاسی تربیت شروع کر دی۔انگریز سرکار کے ساتھ رجعت پسند طبقے نے بھی اتمانزئی کے پہلے آزاد مدرسے کی سخت مخالفت کی تھی۔ اس پراپیگنڈے میں اس وقت کے #مُلا #مولوي سب سے آگے آگے تھے۔ انھوں نے منبر کو جدید تعلیم سے متنفر کرنے کے لیے استعمال کیا۔ وہ کہا کرتے تھے 
’سبق دہ مدرسې وائي ، د پارہ يي دا پیسې وائي 
جنت کې به ئې زې نه وہ دوزخ کی بہ غوټی وائي 
ترجمه (ان مدرسوں میں پیسوں کے لیے پڑھنے والوں کی جنت میں کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ لوگ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ہوں گے)۔
اس سلسلے میں دیر کے علاقے میں قائم اخواندزادوں اور پراچوں ( اخوان ذاده و پراچه قوم ) کے تعاون سے قائم ایک بڑے آزاد مدرسے (اسکول) جس میں 450 طالب علم زیر تعلیم تھے ، ملاکنڈ ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ مسٹر کیب نے انگریز حکومت کے کہنے پر دیر کے نواب کو آزاد مدرسہ(اسکول) تباہ کرنے کا حکم دیا جس پر دیر کے نواب نے وہ آزاد مدرسہ (اسکول) نذر آتش کرڈالا، گو کہ بعد میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انگریز حکومت کے احکامات کی وجہ سے مجبور تھا۔انگریز نے مرکزی آزاد مدرسے (اسکول) کے خلاف کاروائی کے لئے پولیس کپتان حافظ زین العابدین ، جس کا تعلق امرتسر سے تھا ، باچا خان کو گرفتار کرنے کیلئے بھیجا ، لیکن انھیں گرفتار کرنے کے بجائے اُس کپتان نے بتایا کہ آپ کی تعلیمی تحریک سے متاثر ہوکر امرتسر میں بھی آزاد مدرسے (اسکول) قائم ہوگئے ہیں اور قربانی کی کھالوں کے ذریعے سے ان کے اخراجات پورے کئے جاتے ہیں ۔
گو کہ باچا خان کو گرفتار تو نہیں کیا لیکن آزاد مدرسہ (اسکول) بند کرادیا گیا ، یہی وہ زمانہ تھا کہ باچا خان تعلیمی جد وجہد میں انگریز حکومت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہتے اور #انگریز حکومت انھیں #غدار سمجھ کر گرفتار اور مدارس (اسکول) بند کرانے کی تگ ودو میں لگے رہتے ، اور بالآخر خوشحال خان خٹک بابا کی طرح انھوں نے بھی انگریزوں کے خلاف طبل جنگ بجا دیا اور مجبورا میدان سیاست میں آگئے۔
پښتنو بيدار شي ځانونه اوپيژنئ
تاسو له خو به ځان له پيغمبر نه راځي
آخر میں ایک بہت بڑے مغالطے کا ازالہ کرتا جاؤں گا کہ یہ بات سراسر غلط ہے کہ باچا خان #مہاتما #گاندھی کے فلسفۂ عدم تشدد سے متاثر تھے۔
" باچا خان کے فلسفۂ عدم تشدد کی بنیادیں چار تھیں: پہلے اسلام، خاص طور سے پیغمرِ اسلام کی مکّی زندگی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبرِ اسلام سے عدم تشدد سیکھا۔ پھر تصوف جس کا جنوبی ایشیا میر بڑا اثر تھا، تیسرے بدھ مت جو اسلام سے پہلے اس علاقے میں بہت بڑا مذہب تھا۔ اور چوتھے انہوں نے #پښتونولي یا پښتون ضابطۂ حیات میں ' ننواتې یا معافي کے اصول کو اپنایا۔ باچا خان نے اپنے لوگوں سے کہا کہ دشمن کا مقابلہ پُرامن طریقے سے کرنا بھی پښتونولي ہے۔' یہ اور بات ہے کہ باچا خان نے مہاتما گاندھی جی سمیت دوسرے راہنماؤں سے عدم تشدد کے حربے تو سیکھے مگر نظریہ# خالصتاً اِن کا اپنا تھا۔ 
اگر مجھ سے کئی کوئی بھول ہوئی ہے تو براہ کرم اصلاح کریں پڑھنے کا بہت بہت شکریہ ۔
تحریر و تحقیق : خیر محمد ترین

پروفيسر راز محمد راز د پښتو ادابي خدمات

https://youtu.be/NfDwuSsn_PE

پروفيسر راز محمد راز د پښتو ادابي خدمات



ارواښاد پروفيسر رازمحمد راز د ١٩٥١م کال د مارچ پر لومړۍ نېټه په پښين ښار کې د ملک محمددين ترين په کاله کې زوکړى وو، لومړنۍ او منځنۍ زدکړې يې په پښين کې کړې وې، څورلسم ټولګى يې په ١٩٧٣م کال له بلوچستان پوهنتونه پاس کړى وو او د تاريخ په مضمون کې يې په ١٩٧٥م کال د کراچۍ له پوهنتونه د ماسټرۍ ډګري اخيستې وه او بيا يې د بلوچستان په بېلابېلو کالجونو کې د تاريخ د استاد په توګه دنده تر سره کړې وه.تکړه شاعر او ليکوال پروفيسر رازمحمد راز چې په خپل دوه شپېته کلن عمر کې، شاوخوا لس منظوم او منثور آثار کښلي چي ډېر يې چاپ شوي دي.
پروفيسر رازمحمد راز په پښتو معاصر شعر کې خپل ځانګړى سبک درلود، په شعر او نثر کې يې فلسفي افکارو ته ځانګړې توجه کوله. د تېر کال په سپتمبر کې يې په پښين کې د فکرنوم ادبي فورم له خوا جوړي شوي سېمينار ته په وينا کې له شاعرانو او ليکوالو وغوښتل چي په ټولنه کې دي د فکري بدلون لپاره کار وکړي:

((په دونيا کې چي هر لوى قومي انقلاب راغلى دى تر هغه وړاندې يو فکري انقلاب راغلى دى، اوس دا ذهن جوړول، خلک دې ته تيارول او يو فکري انقلاب راوستل زموږ فرض جوړېږي، په اوسني صورتحال کې د پښتنو سرنوشت ټاکل د شاعرانو او اديبانو کار دى، تر څو چي زموږ ليکوالان او شاعران په نړيوال ادب ځانونه خبر نه کړي، هغوى په نړيواله سطحه له نورو ژبو سره خپله ژبه سياله نه شي ګرځولاى ))
تر اوسه يې (د صليب په دايرو کې، مات وزرې زاڼې ژاړي) په نوم د شعرونو ټولګه، د (اوشنيک ګاډيس) په نوم د نثري نظمونو کتاب، د (عاشو، لمر او باران اوري) او (کابل ړنګ دى مينې ژاړي) په نومونو دوه پښتو ناولونه او د (کاسميک سيکسوليزم) په نوم يې د جمالياتي او روحاني فلسفې په اړه د مقالو کتاب او (دى هولى سينرز The Holy Sinners) اردو ناول يې چاپ شوى دى او څو کتابونه يې ناچاپ پراته دي
خدایه څه شول هغه ښکلي ښکلي خلک
په ظاهر په باطن سپین سپیڅلي خلک
نن پښتني فرهنګي ټولنه، د لر اوبر افغان وطن روڼ اندې او تعلیم یافته کړۍ، د پښتو شعر، نثر او ادب لارویان او بهیرونه او ټوله پښتني خاوره د یوه بل ښکلي انسان او په ظاهر او باطن سپیڅلي مشر، ارواښاد پروفیسور راز محمد راز د ویر پر ټغر ناسته ده. راز زموږ د فکر، شعوراو علم د ډګرونو یو وتلی نوم او سپیڅلی انسان وو، راز زموږ د شعري بهیرونو یو مخکښ وو، راز زموږ د فلسفې پر باریکیو او عمقونو د محدودو آګاهو څیرو له ډلې نه وو، راز زموږ یو کامیاب او یاد ناولست وو، راز زموږ دقیق او باریک بینه څیړونکی وو او راز زموږ د ټولنې پر نبض پوه مشر وو.

نن مې د خپل مشر ارواښاد پروفیسر راز محمد راز د مرګ په اوریدوحواس دومره پریشانه دي چې هیح اندازه نه لري. ماته همدا اوس زما او راز صیب د کشر ورور، ګران عصمت الله زهیر ژړغونې څیره، زخمي او سوري زړګی او له غمه کړوپه ملا مخې مخې ته کیږي، نه پوهیږم چې د راز ویر وژاړم، د خپل کشر ورور زهیر زخمي زړګی او که د راز د کورنۍ او بچو نا امیده او د غم په اوښکو لمدې سترګې او که خپله بیوسي چې دومره وس هم راکې نه شته چې د مرګ پر تخته د خپل پراته مشر تندی ښکل کړم او یا له غمه خپل ملا ماتی ورور زهیر، سینې ته
راجوخت کړم!!!

پروفيسر راز له تېرو څو کلونو راهيسې د سرطان په ناروغۍ اخته وو چي په پرله پسې توګه په کراچۍ ښار کې تر درملنې لاندې وو، خو له تېر يوه کاله راهيسې له ګرځېدو لوېدلى او ډاکټرانو له خبرو هم منع کړى وو، خو د قلم مينه يې د مرګ تر بستره له زړه ونه وتله، د هغه کشر ورور ليکوال او شاعر عصمت الله زهير صيب د راته وويل:
((په دې وروستيو ورځو کې يې صحت ډېر خراب وو، څو ورځې مخکې د بې هوښۍ په حالت کې وو، چي پر هوښ راغى، ماته يې په لاس اشاره وکړه او راته ويې ويل چي زما د نوي ناول ټايټل څنګه سو، ما ورته وويل هغه بېخي تيار دى، ويل يې زما بېخي ډېر ارمان دى چي دا ناول ووينم))
(( محرم عصمت الله زهير صيب ويل چي د پروفيسر راز محمد راز صيب يو ناول يي چاپ خانې ته ورکړي وو.د کتاب تر لاس کولو د نيټې په ورځ کله چي زۀ د کوټه شهر ته ورسيدم نو په شهر کي سه بمي چاودنو له کبله بازار ټول بند وو .و چاپ خانه هم بند وا. نو مي و ګران مشر ورور پروفيسر راز محمد راز صيب سر ه اړيکي ونيوي، چي داسي قصه ده . نو د راته وويل چي هس قصه نه ده. کوم کار چي به پر کوم وخت کيږ ي ، هغه به پر هم هغه وخت کيزي . او ومته يي حوصيله راکړه )))
کوټې ښار شمال لوېديځ لور ته د تاريخي ښار پښين نوميالي فلسفي شاعر، ليکوال او ناول کښونکي. ارواښاد پروفيسر رازمحمد راز د يکشنبې په ماښام د دوشپېته کلنۍ په عمر له دې فاني نړۍ سترګې پټې کړې.

څښتن تعالی دې زموږ پر نازولي او ارماني راز ورحمیږي، الله ج دې یې مزل آسانه او منزل روښانه لري. له لویه خدایه ج ګران زهیر، د راز صیب کورنۍ ، د لر او بر پښتون وطن فرهنګیانو او د هغه ارواښاد دوستانو ته د دغه درانه غم د زغم وس او توان غواړم. د فیس بک له دوستانو هیله کوم چې د پښتنو ارمانجن راز له دعاګانو هیر نه کړي.
خلک وايي چي محشر دى احتساب دى
کامل خداى له مانده خلکو حساب غواړي

له طرفه
لیکوال

((خير محمد ترين)) 

عبد الصمد خان اڅکزی ژوند ، جدوجهد ، ادبي او سياسي خدمات

 خان عبد الصمد خان اڅکزی چې تر مرګ وروسته د خان شهید په نوم، ونومول شو د ۱۹۰۸ز کال د جولای په اوومه نېټه د اوسني بلوچستان په ګلستان سیمه کې زېږېدلی وو. خان عبدالصمد خان شهيد د نور محمد خان زوی د سلطان محمد خان لمسی د عنایت الله خان کړوسی او د بوستان کوسی دی.په خټه اڅکزی په اڅکزي كې حمیدزی دی. د خان شهيد پلار نور محمد خان او د دويم انګرېز_افغان جنګ په دوران کې په ١٨٨٠ کې د ميوند په تاريخي ميدان کې پيرنګي ته ماتې ورکولو کې له ايوب خان سره ملګري ول او بيا چې د انګرېز په کومک عبدالرحمن د افغانستان حکمران شو او ايوب خان پيرنګيانو د پنجاب په لاهور کې نظربند کړ، نو دى لومړى د کندهار ولايت په ريګ نومي سيمه کې له شمشوزي اڅکزيو سره ننواتى شو او بيا د ګندمک تپلې استعماري لوظنامې لاندې مستعمره شوي پښين کې د خپل نيکه عنايت الله خان مېنه عنايت الله خان کاريز کې آباد شو


د خان شهید زوکړه د جولايي په میاشت په کال ۱۹۰۷م كې د ګلستان په سمي عنایت الله کاریز كې وشوه، لا ماشوم وو چې د پلار سایه یې له سره لري شوه.خو مور بي بي د خان شهید روزنه د عصري زدكړو په څنګ كښې مروجه اسلامي علوم هم له بیلو بیلو استادانو لکه نورمحمدخان، ایوب شاه ،ملا اغامحمد او نورو څخه ولوستل، خان شهید عصري ذده کړې تر اتمه ټولګې پوري په کلي ګلستان کاریز كښې وکړې په ٣٥_١٩٢٤ کې يې اتم ټولګى پاس کړ او پرمخ يې سکول پرېښود، ځکه چې ګوزاره يې تنګه وه، نو يې د مېوې تجارت ته لاس واچاوه او ددې لپاره يې سندهـ او پنجاب ته تګ راتګ پيل شو. انګرېزي يې مخ کې لا زده کول پيل کړي وو، اوس يې ښه ډېره زده کړه. نور يې د وخت د عالمانو کتابونه ولوستل او وايي، چې دلته “ايله د لوستو او پوهنې په خوند پوهـ سوم” نو په نتيجه کې يې د ملايانو او نورو خلکو د اعتقاداتو پرخلاف د پوهې (عقل) او پوهنې (علم) پر بنياد باورونه جوړ شول. د قرآن شريف يې هم ډېره ژوره مطالعه وکړه او په دې حالاتو کې يې په پښتنو کې د پيرانو او پيريانو او د هر ډول توهم پرستۍ او ددې په نتيجه کې شوکې پرخلاف پراخو هلوځلو ته لاس واچاوه، وروسته يې د مټرک.اېف اې پښتو او فارسي امتحانونه يه غیر رسمي توګه په امتیازي نمبرو پاس کړل. له خپل اکا عبدالسلام سره يې تجارت هم کولی.
نوموړي نه یواځې د پښتون ولس د ویښولو او د خپلواکۍ په مبارزې کې خپل ټول ژوند تېر کړ، بلکې دا ژوند یې د همدې سیاسي او ملتپالې مبارزې له لارې له لاسه هم ورکړ. د پاکستان له جوړېدو سره او تر هغې مخکې د خپلې سیاسي نظریې او فکر پر اساس کالونه، کالونه په زندان کې تېر کړل. خان شهيد ان دځوانۍ په مستو شپواو ورځوکښې دپښتون ولس دا نساني او رواحقوقوڅخه ددفاع اوملاتړ په خاطرهرڅه پرځان ومنل اوهميشه یې پردې مسله ټينگارکاوه چې پښتانه بايدسره يواودخپلې خپلواکی لپاره ، په يوه اواز دخپل ولس دارمانوددفاع په سنگرکښي ودرېږياودمبارزې پدې لارکښي هرډول قربانۍ اوفدا کارۍ ته تياروي، خان شهيد دهند دنیمې وچی له ازادي غوښتونکي غورځنګ سره آشناو، هغه هندوستان ته دسفرپه وخت کي چي کله بمبۍ ته په لومړي ځل ولاړی د هند له مختلفو سياسي مشرانو دهغه جملې دهند دآزادی بخښونکي جنبش له رهبر مهتاماگاندي او نورومشرانو سره وليدل اوله هغوي سره ئې نږدې اړېکې پېژندګلوي پيدا کړدغه ليدني اوکتني که څه هم د ډيري لږمودې لپاره وې خودخان شهيد پرسياسي کړونې اونظريات ئې تر اغېزې لاندي راوستل . دبلې خوادهندوستان دخپلواکی دلاري مبارزينوسره دخان شهيدغوندي دپښتون غيرتي مشر ليده کاته اويوله بل څخه ددوي ملاتړ ددې لامل وگرځيد چي دهندپه لويه وچه کښې دخپلواکي نهضت راگړندی شي ، خان شهيد د همدې سفرونو په لړ کې له باچاخان سره هم و پېژندل او دواړه په يوه خونه کې څو ورځې يوځاي ژوند کاوه.
سياسي او علمي خدمات:
خان شهید عبدالصمد خان لاپه تانده ځواني كښې وو چې د خپل وطن او قام سیاسي، ټولينز او معاشي حالات چې د پرنګي سامراج قبضې له ناوړو ستونځو سره مخ کړی وو وپامول، خو د دې پر ځاى چې خپل قام او وطن د دې ناوړو حالاتو پر رحم او كرم پريږيدي د پرنګي سامراج په مقابل كښې د مبارزې پريكړه وكړله، كه څه هم تر دې لمخه په ټوله پښتونخوا كښې د پرنګي سامراج په مقابل كښې د اذادۍ مبارزه روانه وه خو دې مبارزې یوه منظمه او سياسي بڼه نه لرله، ځکه دې سترګور افغان ته د دې كمي اندازه وشوله چې تر څو پښتانه خپلي مبارزې ته منظمه او سیاسي بڼه ور نه کړي تر هغو دې نړيوال ښامار ته ماته ورکول نه يواځي ګران كار دى بلكې په نا ممكناتو كښې راځي، دا هغه پاميدل وو چې خان شهيد په سوهېلي پښتونخوا كښې د (انجمن وطن ) نومي سياسي تحريك بنسټ کښېښودلی، وروسته يې دې سیاسي تحریک ته د (ورورپښتون) نوم ور کړلى، د سیاسي مبارزې په نتیجه كښې خان شهید عبدالصمد خان په کال (۱۹۲۹)م كښې د (دويشتو) کلونو په عمر كښې د پرنګي واكدارانو لخوا په بند محكو م شولو، له دې وروسته خان شهيد عبدالصمد خان بيا تر نيمي هم زيات ژوند لومړى د پرنګي سامراج وروسته د پاكستا ن په بندي خانو كښې تير كړى خو هيڅ كړاو، ناورین او ظلم يې مخه نه ونيوله بلكې د ژوند تر اوسترۍ ساه يې د خپل قام او اولس چوپړه ته ملا تړلې وه.
خان شهید د سیاسي مبارزې تر څنګ، د پښتو ژبې او ژبپوهنې په ډګر کې هم د خپلې پوهې او مطالعې پر اساس ډېر کار کړی دی او د لیکدود یوه نوې بڼه یې هم ایجاد کړې وه د نوموړي د لیکدود پر اساس، د نوموړي خپل نوم (خان اودل سمد خان اڅکزی) لیکل کېږي خان شهید د خبریالۍ په ډګر کې هم ډېر کار کړی وو ، علمي او ادبي خدمات: شهيد عبدالصمد خان د سیاسي مبارزې په څنګ كښې د قلم له لارې هم ډېرادبي او علمي خدمتونه کړي دي، خان شهيد لا ډېرد کم عمر وو چې د مولانا محمد علی جوهر (همدرد) نومي اخبار كښې يې لیکنې کولې، د پښتو د رسم الخط په اړه يې ډېر ګټور او بنيادي كار كړى دى خان شهید د پښتو ليك لوست لپاره خپله املا ايجاد كړله، پښتانه هغه توري چې له عربي ، فاړسي يا نورو ژبو څخه پښتو ته راغلي دي په خپلو ږغونه كښې وايي مثلاً (ص) په (س)، (ع) په (ا)، (ف) په (پ)، (ق) په (ك) او نور، د خان شهيد د رسم الخط لويه ځانګړتیا دا وه چې كوم توري به په كوم ږغ كښې ويل كېدل په هغه ږغ (صوت) كښې به ليكل كيده، که چیري پښتانه په دې رسم الخط سلا شوي وايه نو امكان دا وو چې تر ډېره بريده به د پښتو د املا ستونځې هوارې وايي، له دې پرته دې ستر مبارز او علمي هستۍ د (صمدالغات) په نوم د پښتو قاموس ليكلى دی.د شیخ سعدي (ګلستان ) او د شبلي نعماني (سیرت النبي) لومړۍ ټوک يې ډېرپه عالمانه بڼه پښتو ته ژباړلي دي، د امام غزالي (کیمايې سعادت) او د مولانا عبدالکلام ازاد (ترجمان القران) يې هم د لوړ معيار ژباړلي دي.(زما ژوند او ژوندون) چې درې ټوکه دی یو بل علمي او ادبي شاهکار دی، په دې کتاب كښې خان شهید د خپل ژوند او اوږدې سیاسي مبارزې ټوله كيسه ډېر ه په عالمانه نثر لیکلې ده.
خان شهيد عبدالصمد خان چې ټول عمر يې د خپل قام او ژبې چوپړ ته ملا تړلې وه او د وخت او حالاتو هيڅ ناروا يې مخه نه شوله نيولى د پښتون دوښمن قوتونو لخوا په ۲ دسمبر كال (۱۹۷۳)م كښې د شپې په مهال په خپل كور كښې په شهادت ورسول شو، په هغه سبا د ګلستان په لويه هديره كښې خاورو ته وسپارل شو، د خان شهید د وژنې په اړه په پاکستان کې هیڅ مقدمه، او هیڅ پلټنې هم نه دي شوې او نه هم تر اوسه دا مالومه شوه چې نوموړی آخر چا وواژه ؟ الله دي ارواښاد خان شهيد په جنت الفردوس کې ځای ورکړي. مونږ بايد چې د پښتون قام په حېث له هر قسمه سياسي اختلافاتو څخه بالاتر سو او خپل ملي اتلان او قهرمانان نه کو هير ...
تحقيق او ليک
خير محمد ترين