فلسفہ عدم تشدد کے خالق خان عبد الغفار خان باچا خان رحمت اللہ علیہ (6 فروری 1890- 20 جنوری 1988) ایک عظیم تعلیمی مصلح سے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے تک کاسفر ! باچا خان پاکستان کے نہیں تقسیم ہند کے مخالف تھے‘ اور باچاخان نے جہالت کے خلاف مجاہدہ کیا، انھوں نے کبھی کوئی بغاوت نہیں کی تھی !
1948ء
پاکستان کی اسمبلی میں حلف لیا اور پاکستانی شناخت کو مقدم جانا۔ پاکستانی سفارتکار ایس فدا یونس اپنی کتاب ’’تھانے سے سفارت تک‘‘ میں لکھتے ہیں ’’1969ء میں وہ کابل میں تعینات تھے اور باچا خان بھی افغانستان میں تھے، باچاخان کو گاندھی جی کی برسی میں شرکت کیلئے بھارت سے دعوت نامہ ملا، اُنکے پاکستانی پاسپورٹ کی میعاد ختم ہو چکی تھی، افغان حکومت نے افغان پاسپورٹ دینے کی پیشکش کی، کابل میں بھارتی سفیر نے کہا کہ باچاخان کو کسی پاسپورٹ، ویزے کی ضرورت نہیں، باچا خان نے کہا کہ وہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے پاکستان ہی کے پاسپورٹ پر سفر کریں گے۔ بحیثیت قونصل آفیسر میں نے باچا خان کی درخواست مع خط اپنی وزارتِ خارجہ کو ارسال کی اور منظوری آنے پر میں نے باچا خان کو نیا پاسپورٹ جاری کر دیا‘‘۔ ایسی اَن گنت مثالیں ہیں۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ایسے بےلوث رہنمائوں کی ہم نے وہ قدر نہ کی جسکے وہ مستحق تھے۔ غالبؔ نے کہا تھا۔
وہ لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
ڈھونڈا تھا جن کو آسماں نے خاک چھان کے
باچا خان بابا نے 108 سال قبل قوم کو اندھیروں کا راہی بننے سے روکنے کی خاطر " آزاد مدرسوں اسکولوں" کے قیام کا بیڑا اٹھایا اور علمائے حق کے قافلے میں مولوی عبد العزیز کے ہمراہ 1920ء میں چار سدہ اپنے آبائی گاؤں اُتمانزئی میں پہلے آزاد مدرسہ اسکول کی بنیاد رکھی۔ ان سکولوں میں پڑھایا جانے والا نصاب امن، برداشت اور ہم آہنگی کے فروغ کے پیش نظر ترتیب دیا گیا ہے۔ زیر تعلیم بچوں سے فیس نہیں لی جاتی بلکہ کتابیں اور یونیفارم مفت فراہم کی جاتی تھیں۔ پشتو، اردو اور انگریزی سمیت سائنسی علوم کے مضامین پہلی جماعت سے پڑھائی جاتی تھی۔
باچا خان بابا نے 1920 ء میں اپنے آبائی گاؤں سے آزاد مدرسہ سکول کے نام سے پښتون علاقوں میں سکولوں کے قیام کا آغاز کیا تھا۔ کچھ ہی عرصے میں انہیں پورے صوبہ خیبر پختوخوا میں پھیلا دیا گیا اور ان سکولوں کی تعداد 137 تک پہنچ گئی تھی جن کی تعداد اُس وقت کے سرکاری سکولوں سے زیادہ تھی۔ باچا خان کی روشن خیالی کی راہ میں انگریز اور اس کے حواری دیوار کھڑی نہ کرتے تو آج یہ خطہ علم کا مرکز ہوتا۔
ممتاز کلاسیکل شاعر و فلسفی غنی خان بابا اِسی آزاد مدرسے اسکول سے فارغ التحصیل تھے۔ فنون لطیفہ کی مزید تربیت برطانیہ سے حاصل کی۔ والد کی ہدایت پر امریکا میں اُنھوں نے شوگر ٹیکنالوجی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے باچا خان نے بھیجوایا لیکن جب انگریز حکومت نے1931ء میں باچا خان کو گرفتار کیا تو ان کی ساری جائیداد بنجر ہوگئی اور ان حالات کی وجہ سے اُنھیں تعلیم ادُھوری چھوڑ کرواپس آنا پڑا۔ جبکہ خان عبدالولی خان حجروں اور مساجد کے اِجتماعات میں خُوش الحانی سے قرات کرتے تھے ، جبکہ تیسرے صاحبزادے اور سابق سیکرٹری تعلیم عبدالعلی خان عرف لالی کی تعلیمی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں، انھوں نے آکسفورڈ سے ایم اے کیا۔ باچا خان کی تین نواسیاں ڈاکٹر ہیں ۔
قوم میں تعلیم کا شعور پیدا کرکے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کرنے والے صف اول کے سپاہی تھے ۔ خان عبدالغفار خان باچا خان بابا کو اپنی قوم سے بے فناء محبت تھی اور وہ یہی چاہتے تھے کہ اگر ترقی کرنی ہے تو تعلیم کو اپنا ہتھیار بنانا ہوگا۔ ڈاکٹر خان صاحب نے باچا خان کو اِنگلینڈ آنے کی دعوت دی کہ وہ یہاں آکر انجنئیرنگ کی تعلیم مکمل کرلیں لیکن باچا خان نے وطن و قوم کے خاطر ان کی پیشکش کو ٹھکرا دیا. وه پښتون قوم میں تعلیم کا شعور پیدا کرکے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم دینا چاہتے تھے۔ تاریخ میں مخالفیں نے ہمیشہ غدار کا نام دیا ہے ۔ باچا خان کی زندگی کا یہ غیر معمولی گوشہ ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے۔
باچا خان فرماتے ہیں کہ
" جب میں نے 1921ء میں پہلا آذاد سکول کھولا تو ہمارے پاس اُستادوں کی بہت کمی تھی. اسلیئے کبھی کبھی میں خود بھی بچوں کو پڑھاتا تھا. دوسری بات یہ کہ ہمارے پاس پیسوں کی کمی تھی اور اُستادوں کو اچھی تنخواہیں بھی نہیں دے سکتے تھے. لاهور میں خلافت کانفرنس کیلئے گیا تها۔ وہاں ضلع بنوں کے گاؤں میراخیل سے تعلق رکھنے والے امیر مختار خان سے ملاقات ہوئی. انھوں نے اپنے دو بیٹے ہمارے سکول میں پڑھانے کیلئے بخش دیئے . بڑے کا نام امیر ممتاز خان اورچھوٹے کا نام مقصود جان تھا. مقصود جان صاحب سکول ہذا کے پہلے ھیڈ ماسٹر بھی تھے۔
انگریزوں کے لیے تعلیم یافتہ پشتون ناقابل قبول تھا۔ انگريز کو ہمارے سکول پسند نہیں تھے. وه ہمارے استادوں کو ڈراتے دهمکاتے اس پہ کام نہ هوتا تو اچھی تنخواہ کا لالچ دیتے وہ ہمارے سکولوں میں اُستادوں کو نہیں چھوڑتے تھے. لوگوں میں تعلیم، بھائی چارہ، محبت اور قوم پرستی کاجذبہ پیدا کرنے کیلئے میں نے گاؤں گاؤں گھر گھر کے دورے شروع کئے. میرے ان دوروں سے انگریز خوفزدہ ہوگئے.
سرھملٹن گرانٹ ہمارے صوبے کا چیف کمشنر تھا انہوں نے میرے والد صاحب کوبلایا اور کہا کہ آپ کا بیٹا باچاخان کیا کر رہا ہے، سب لوگ خاموش بیهٹے ہیں وہ سکول کھولے جارہا ہے اور دورے کررہا ہے. انگریز حکومت سے آذدی کیلئے لوگوں کو اُکسا رہاہے. یہ ٹھیک کام نہیں ہے بیٹے کوسمجھاؤ اور منع کرو ان کاموں سے سعدالله جو چیف کمشنر کا سیکرٹری تھا انہوں نے میرے بابا کو کہا کہ چیف کمشنر آپکی بہت عزت کرتا ہے. آپ چیف کمشنرکیلئے اپنے بیٹے کو نہیں روک سکتے.
میرے والد صاحب آئے مجھے بٹھایا اور سمجھانے لگا کہ غفار خان بیٹے آپ بڑے اور معزز گھرانے کے ایک ذمہ دار فرد ہو زندگی کی تمام سہولیات آپ کو میسر ہیں، تو آپ اتنے طاقتور اور ظالم لوگوں سے دشمنی کیوں مول لے رہے ہو. سب لوگ خاموش ہیں آپ کیوں حکومت کو ناراض کر رہے ہو. میں نے کہا ٹھیک ہے بابا آپ چاہتے ہیں تو نہیں کرونگا. بہت لوگوں نے نماز چھوڑی ہے، میں بھی نماز نہیں پڑونگا پھر آپ یہ نہ کہے کہ نماز کیوں نہیں پڑهتے. بابا نے کہا نماز تو بیٹا فرض هے وہ کیسے چھوڑا جاسکتا ہے. میں نے کہا کہ نماز کی طرح علم بھی ہر مرد و عورت پر فرض ہے. تعلیم کے بعد انگریز شاہد نماز پر بھی پابندی لگائے تو نماز بھی چھوڑنی پڑے گی. اگلے دن میرا بابا کمشنر صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ آپ لوگوں کی خوشنودی کیلئے ہم اپنے دین کو نہیں چھوڑ سکتے.
گیارہ دسمبر 1921ء کو ہم سکول میں فٹبال گراونڈ بنانے کے کام میں لگے تھے کہ پولیس والے آئے اور مجھے پکڑ کر لے گئے. کل ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیا گیا. میرا جرم سننے کے بعد ڈپٹی کمشنر نے مجھے 3 سال قید بمشقت کی سزا سنائی اور جیل بهیج دیا." باچا خان مجموعی طور پر 35 سال پس زندان گذارے ، لیکن یہ ایک منفرد واقعہ ہے کہ آپ نے زندگی کی پہلی قید قوم کے بچوں کو زیور تعلیم کرنے کے"جُرم"میں کاٹی، 1924ء میں رہا ہوئے تو آپ کا والہانہ ِاِستقبال پختون روایات کے مطابق کیا گیا اور انواع و اقسام کے کھانے پیش خدمت کئے جانے کیلئے تقریبات میں مدُعو کرنے کی کوشش کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ" جو رقم آپ لوگ کھانے اور دیگر تقریبات پر خرچ کرنا چاہتے ہیں ، وہ گاؤں کے اسکول کے فنڈ میں جمع کرادیں۔ "
ﷲ بخش یوسف اپنی کتاب "صوبہ سرحد اور جدوجہد آزادی"میں ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ جب باچا خان کے والد بہرام خان جو علاقے کے بہت بڑے خان تھے ، انتقال ہوا تو دور دور سے مولوی صاحبان اس توقع کے ساتھ آئے کہ انہیں بہت"خیرات"ملے گی لیکن جب تدفین کے بعد"خیرات"کا موقع آیا تو مولوی صاحبان کو مخاطب کرتے ہوئے باچا خان گویا ہوئے کہ" احادیث میں صدقہ جاریہ کی تلقین کی گئی ہے لہذا میں والد صاحب کے ایصال ثواب کیلئے دو ہزار روپے گاؤں کے مدرسے میں بطورصدقہ جاریہ دیتا ہوں۔"ظاہر ہے کہ اس کے بعد اُن مولوی صاحبان کے غم و غصے کا کیا حال ہوا ہوگا۔ "
صوبہ سرحد اور موجودہ خیبر پختونخوا میں باچا خان کی خدائی خدمت گار تحریک پر ایک کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر مُوکُولیکا بینرجی کا کہنا تھا لوگوں کو اتنے بڑے پیمانے پر متحرک کرنے والی یہ ایک عظیم تحریک تھی جس کے پیچھے باچا خان کی شخصیت اور فکری توانائی کارفرما تھی۔
'باچاخان نے گاؤں گاؤں جاکر آزاد سکول کے نام سے بنیادی تعلیمی ادارے قائم کیے اور انگریز استعمار کے خلاف پختون عوام میں شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو گاؤں کی صفائی جیسے رفاہِ عامہ کے کام پر لگایا۔ اپنے علاقے کا خان ہونے کے باوجود انہوں نے ہاتھ میں جھاڑو پکڑی اور دوسروں کو بھی صفائی کی ترغیب دی۔'
ڈاکٹر بینرجی کا کہنا تھا کہ اپنی جنگجویانہ فطرت کے لیے مشہور پختون عوام کو انہوں نے جس طرح عدم تشدد اور پُرامن طریقے سے اپنے مقصد کے حصول کے لیے متحرک کیا اس کی مثال کم ملتی ہے۔
انگریزوں کو تعلیم یافتہ پشتون ناقابل قبول تھے اور انگریز یہ بھی جانتا تھا کہ اگر تلوار کے ماہر قلم کے شیدائی بن گئے تو پھر انھیں زیر کرنا ناممکن ہوجائے گا لہذا انگریز ڈپٹی کمشنر سر ہملٹن گرانٹ نے باچا خان کے قائم مدارس آزاد مدرسہ (اسکولوں) کے خلاف کاروائی کیلئے اپنے ایجنٹ دلاور خان کو اسسٹنٹ کمشنر بنا کر بھیجا جس نے تحریک خلافت کو کچلنے کے باعث شہرت پائی تھی لیکن یہاں ایسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا باچا خان کے ان
آزاد مدرسہ (اسکولوں) نے بیرون صوبوں میں کافی شہرت پالی تھی لہذا ہندوستان کے کونے کونے سے اور خاص طور بلوچستان سے آپ کو مدعو کیا جانے لگا ۔جس پر انگریز سرکار نے چراغ پا ہو انھوں نے اسکولوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرڈالا اور باچا خان کے آزاد مدارس (اسکولوں) کے خلاف بھر پور کاروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے جگہ جگہ اساتذہ کو گرفتار کئے جانے لگا۔ اس سلسلے کا پہلا سکول چارسدہ اتمانزئی میں باچا خان نے ذاتی حیثیت سے قائم کیا تھا جس کو انگریز حکومت نے بند کرادیا۔ بعد میں دو مزید سکولز مردان کے علاقے گدر اور ضلع دیر میں کھولے گئے۔ گدر میں قائم سکول کو انگریز سرکار نے اور دیر کے سکول کو نواب آف دیر نے بند کرادیا۔ پابندیوں کے باوجود باچا خان اور ان کے مخلص دوستوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ باچاخان نے پختون قوم کو عدم تشدد کا فلسفہ دیا اور علمی و فکری نشوونما کے ساتھ ان کی سیاسی تربیت شروع کر دی۔انگریز سرکار کے ساتھ رجعت پسند طبقے نے بھی اتمانزئی کے پہلے آزاد مدرسے کی سخت مخالفت کی تھی۔ اس پراپیگنڈے میں اس وقت کے #مُلا #مولوي سب سے آگے آگے تھے۔ انھوں نے منبر کو جدید تعلیم سے متنفر کرنے کے لیے استعمال کیا۔ وہ کہا کرتے تھے ’سبق دہ مدرسې وائي ، د پارہ يي دا پیسې وائي
جنت کې به ئې زې نه وہ دوزخ کی بہ غوټی وائي
ترجمه (ان مدرسوں میں پیسوں کے لیے پڑھنے والوں کی جنت میں کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ لوگ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ہوں گے)۔
اس سلسلے میں دیر کے علاقے میں قائم اخواندزادوں اور پراچوں ( اخوان ذاده و پراچه قوم ) کے تعاون سے قائم ایک بڑے آزاد مدرسے (اسکول) جس میں 450 طالب علم زیر تعلیم تھے ، ملاکنڈ ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ مسٹر کیب نے انگریز حکومت کے کہنے پر دیر کے نواب کو آزاد مدرسہ(اسکول) تباہ کرنے کا حکم دیا جس پر دیر کے نواب نے وہ آزاد مدرسہ (اسکول) نذر آتش کرڈالا، گو کہ بعد میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انگریز حکومت کے احکامات کی وجہ سے مجبور تھا۔انگریز نے مرکزی آزاد مدرسے (اسکول) کے خلاف کاروائی کے لئے پولیس کپتان حافظ زین العابدین ، جس کا تعلق امرتسر سے تھا ، باچا خان کو گرفتار کرنے کیلئے بھیجا ، لیکن انھیں گرفتار کرنے کے بجائے اُس کپتان نے بتایا کہ آپ کی تعلیمی تحریک سے متاثر ہوکر امرتسر میں بھی آزاد مدرسے (اسکول) قائم ہوگئے ہیں اور قربانی کی کھالوں کے ذریعے سے ان کے اخراجات پورے کئے جاتے ہیں ۔
گو کہ باچا خان کو گرفتار تو نہیں کیا لیکن آزاد مدرسہ (اسکول) بند کرادیا گیا ، یہی وہ زمانہ تھا کہ باچا خان تعلیمی جد وجہد میں انگریز حکومت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہتے اور #انگریز حکومت انھیں #غدار سمجھ کر گرفتار اور مدارس (اسکول) بند کرانے کی تگ ودو میں لگے رہتے ، اور بالآخر خوشحال خان خٹک بابا کی طرح انھوں نے بھی انگریزوں کے خلاف طبل جنگ بجا دیا اور مجبورا میدان سیاست میں آگئے۔ پښتنو بيدار شي ځانونه اوپيژنئ
تاسو له خو به ځان له پيغمبر نه راځي
آخر میں ایک بہت بڑے مغالطے کا ازالہ کرتا جاؤں گا کہ یہ بات سراسر غلط ہے کہ باچا خان #مہاتما #گاندھی کے فلسفۂ عدم تشدد سے متاثر تھے۔ " باچا خان کے فلسفۂ عدم تشدد کی بنیادیں چار تھیں: پہلے اسلام، خاص طور سے پیغمرِ اسلام کی مکّی زندگی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبرِ اسلام سے عدم تشدد سیکھا۔ پھر تصوف جس کا جنوبی ایشیا میر بڑا اثر تھا، تیسرے بدھ مت جو اسلام سے پہلے اس علاقے میں بہت بڑا مذہب تھا۔ اور چوتھے انہوں نے #پښتونولي یا پښتون ضابطۂ حیات میں ' ننواتې یا معافي کے اصول کو اپنایا۔ باچا خان نے اپنے لوگوں سے کہا کہ دشمن کا مقابلہ پُرامن طریقے سے کرنا بھی پښتونولي ہے۔' یہ اور بات ہے کہ باچا خان نے مہاتما گاندھی جی سمیت دوسرے راہنماؤں سے عدم تشدد کے حربے تو سیکھے مگر نظریہ# خالصتاً اِن کا اپنا تھا۔ اگر مجھ سے کئی کوئی بھول ہوئی ہے تو براہ کرم اصلاح کریں پڑھنے کا بہت بہت شکریہ ۔
تحریر و تحقیق : خیر محمد ترین